مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْعِلْمِ] ‹ بَابُ مَا يُخَافُ عَلَى الْأُمَّةِ مِنْ زَلِّةِ الْعَالِمِ وَجِدَالِ الْمُنَافِقِ وَغَيْرِ ذَلِكَ] · حديث 884
884 - وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنِّي لَا أَتَخَوَّفُ عَلَى أُمَّتِي مُؤْمِنًا وَلَا مُشْرِكًا، فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ فَيَحْجِزُهُ إِيمَانُهُ، وَأَمَّا الْمُشْرِكُ فَيَقْمَعُهُ كُفْرُهُ، وَلَكِنْ أَتَخَوَّفُ عَلَيْكُمْ مُنَافِقًا عَالِمَ اللِّسَانِ، يَقُولُ مَا تَعْرِفُونَ، وَيَعْمَلُ مَا تُنْكِرُونَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ، وَفِيهِ الْحَارِثُ الْأَعْوَرُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.
حضرت علی ابن ابو طالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں :نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے " مجھے اپنی امت کے حوالے سے نہ تو کسی مؤمن کے بارے میں اندیشہ ہے اور نہ ہی کسی مشرک کے بارے میں اندیشہ ہے جہاں تک مؤمن کا تعلق ہے تو اس کا ایمان اسے بچا لے گا ، جہاں تک مشرک کا تعلق ہے تو اس کا کفر اسے خراب کر دے گا ، مجھے تم لوگوں کے بارے میں منافق کے حوالے سے اندیشہ ہے جو گفتگو کا ماہر ہو گا ، وہ ایسی بات کرے گا جو تمہیں معروف محسوس ہو گی اور ایسا عمل کرے گا جو تمہیں منکر محسوس ہو گا "۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اورمعجم صغیر میں نقل کی ہے اس روایت میں ایک راوی حآرث اعور نام کا ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Science] › Chapter What a nation is afraid of because of the slip-up of the scholar and the controversy of the hypocrite and so on] · Hadith 884
