مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْعِلْمِ] ‹ بَابٌ فِيمَا يُكْشَفُ فِي الْحَمَّامِ] · حديث 1531
1531 - وَعَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ قَالَ: سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيَّ يَقُولُ: الْفَخِذُ فِي الْمَسْجِدِ عَوْرَةٌ، وَفِي الْحَمَّامِ لَيْسَتْ بِعَوْرَةٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي بَابِ الْحَمَّامِ قَبْلَ هَذَا حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ: «شَرُّ الْبَيْتِ الْحَمَّامُ، تُكْشَفُ فِيهِ الْعَوْرَاتُ». وَقَوْلُ ابْنِ عُمَرَ لِلَّذِي يُنَوِّرُهُ إِذَا بَلَغَ حِقْوَيْهِ: اخْرُجْ. وَاللَّهُ أَعْلَمُ. وَرُوَاتُهُ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ثِقَاتٌ.
وليد بن مسلم بیان کرتے ہیں: میں نے امام اوزاعی کو فرماتے ہوئے سنا ہے:"زانوم مسجد میں قابل ستر شمار ہوگا، لیکن حمام میں قابل سترنہیں ہوگا‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے۔(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں): میں یہ کہتا ہوں اس سے پہلے حمام والے باب میں یہ بات گزر چکی ہے کہ حضرت عبد الابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث منقول ہے:”سب سے برا گھر حمام ہے جس میں پردے کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ اسی طرح حضرت عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہ ان کا اس شخص کو یہ کہا جو انہیں نوره لگا رہا تھا اور جب وہ تہبند باندھنے کی جگہ پر پہنچا تو انہوں نے فرمایا تم نکل جاؤ؟‘۔ باقی اللہ بہتر جانتا ہے امام اوزاعی سے اس روایت کونقل کرنے والے افرادثقہ ہیں۔
الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ،
Hadith 1531
