مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْعِلْمِ] ‹ بَابُ عُلُوِّ السَّفِيهِ عَلَى الْعَلِيمِ] · حديث 862
862 - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «أَنَّ كَلْبَةً كَانَتْ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ مُجِحًّا، فَضَافَ أَهْلُهَا ضَيْفٌ، فَقَالَتْ: لَا أَنَبَحُ ضَيْفَ اللَّيْلَةَ، فَعَوَى جَرْوُهَا فِي بَطْنِهَا، فَأُوحِيَ إِلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ أَنَّ مِثْلَ هَذِهِ الْكَلْبَةِ مِثْلُ أُمَّةٍ يَأْتُونَ مِنْ بَعْدِكُمْ، يَسْتَعْلِي سُفَهَاؤُهَا عَلَى عُلَمَائِهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرَوَى أَحْمَدُ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّ فِي حَدِيثِ أَحْمَدَ: «يَقْهَرُ سُفَهَاؤُهَا حُلَمَاءَهَا». - وَيَأْتِي فِي الْفِتَنِ، وَفِيهِ شُعَيْبُ بْنُ صَفْوَانَ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَهُ يَحْيَى. وَعَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، وَقَدِ اخْتَلَطَ.
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : بنی اسرائیل میں یاک کتیا تھی جو شور مچانے والی تھی ۔ ایک مرتبہ اس کے مالکان کے ہاں مہمان آ گئے، تو اس نے یہ سوچا ، آج رات میں مہمان کی وجہ سے نہیں بھونکوں گی ، تو اس نے اسپنے پلے کو پیٹ کے ساتھ لگا لیا ، تو ان میں سے ایک شخص کی طرف یہ بات وحی کی گئی : کہ اس کتیا کی مثال اس امت کی مانند ہے جو تم لوگوں کے بعد آئے گی، جس کے بے وقوف لوگ ، اس کے علماء پر غالب آ جائیں گے ۔یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے امام احمد نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے تاہم امام احمد کی روایت میں یہ الفاظ ہیں :" اس کے بے وقوف لوگ ، اس کے علماء پر غلبہ حاصل کر لیں گے "۔ یہ روایت فتنوں سے متعلق باب میں آگے آئے گی ، اس کی سند میں ایک راوی شعیب بن صفوان ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے جبکہ یحیی نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اور عطاء بن سائب نامی راوی اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
النَّبِيِّ «أَنَّ كَلْبَةً كَانَتْ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ مُجِحًّا، فَضَافَ أَهْلُهَا ضَيْفٌ، ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو
Hadith 862
