مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [أَبْوَابُ الْعِيدَيْنِ] ‹ [بَابُ مَا يَجْرِي عَلَى الْمَرِيضِ] · حديث 3808
3808 - عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: «لَيْسَ مِنْ عَمَلِ يَوْمٍ إِلَّا وَهُوَ يُخْتَمُ عَلَيْهِ، فَإِذَا مَرِضَ الْمُؤْمِنُ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ: يَا رَبَّنَا عَبْدَكَ حَبَسْتَهُ؟ فَيَقُولُ الرَّبُّ - عَزَّ وَجَلَّ -: اخْتِمُوا لَهُ عَلَى مِثْلِ عَمَلِهِ حَتَّى يَبْرَأَ أَوْ يَمُوتَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ.
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:’’روزانہ کے ہرایک عمل پر مہر لگائی جاتی ہے‘ جب مؤمن بیمار ہوتا ہے‘ توفر شتے عرض کرتے ہیں: اے ہمارے پروردگار! تو نے اپنے بندے کومحبوس کر دیا ہے‘ تو پروردگارفر ما تا ہے: اس کے عمل پراس کے (گزشتہ معمول کے مطابق) مہر لگاؤ جب تک یہ تندرست نہیں ہو جا تا یا فوت نہیں ہو جا تا‘‘ ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اورمعجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے۔
الْمَلَائِكَةُ: يَا رَبَّنَا عَبْدَكَ حَبَسْتَهُ؟ ← لَيْسَ مِنْ عَمَلِ يَوْمٍ إِلَّا وَهُوَ يُخْتَمُ عَلَيْهِ فَإِذَا مَرِضَ الْمُؤْمِنُ ← النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The gates of the two feasts] › [Chapter of what happens on the sick] · Hadith 3808
