مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْبُيُوعِ] ‹ [بَابُ مَا نُهِيَ عَنْهُ مِنَ الْبُيُوعِ] · حديث 6357
6357 - عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الشِّغَارِ، وَعَنْ بَيْعِ الْمَجَرِ، وَعَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ، وَعَنْ بَيْعِ كَالِئٍ بِكَالِئٍ، وَعَنْ بَيْعِ آجِلٍ بِعَاجِلٍ». قَالَ: وَالْمَجَرُ مَا فِي الْأَرْحَامِ. وَالْغَرَرُ: أَنْ تَبِيعَ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ. وَكَالِئٌ بِكَالِئٍ: دَيْنٌ بِدَيْنٍ. وَالْآجِلُ بِعَاجِلٍ: أَنْ يَكُونَ لَكَ عَلَى الرَّجُلِ أَلْفُ دِرْهَمٍ فَيَقُولَ الرَّجُلُ: أُعَجِّلُ لَكَ خَمْسَمِائَةٍ وَدَعِ الْبَقِيَّةَ. وَالشِّغَارُ: أَنْ يُنْكِحَ الْمَرْأَةَ بِالْمَرْأَةِ لَيْسَ بَيْنَهُمَا صَدَاقٌ. قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شغار سے ‘مجرفروخت کر نے سے‘ دھو کے کے سودے سے‘ کالی کےسودے سے‘اور ادھار کے بدلے میں نقد سودے سے منع کیا ہے۔راوی بیان کرتے ہیں : مجر سے مراد وہ چیز ہے‘ جو ( جانور کے) پیٹ میں موجود ہو۔ دھو کے کے سودے سے مراد یہ ہے کہ آپ ایسی چیز فروخت کر د یں جو آپ کے پاس ہے ہی نہیں۔ کالی کے عوض میں کالی سے مراد یہ ہے کہ ادھار کے بدلے میں ادھار کا سودا کیا جائے ۔تاخیرکے بدلے میں جلدی کا سودا یہ ہے کہ آپ نے کسی شخص سے ایک ہزار درہم لینے ہیں اور وہ شخص یہ کہے کہ میں آپ کو پانچ سو درہم جلدی ادا کر دیتا ہوں آپ باقی رقم چھوڑ دیں۔ شغار یہ ہے کہ عورت کے عوض میں عورت کے ساتھ نکاح کر لیا جائے اور ان دونوں کا کوئی مہر نہ ہو۔(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:)میں یہ کہتا ہوں:’’صحیح‘‘میں اس روایت کا ایک حصہ منقول ہے۔یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے اور وہ ضعیف ہے۔
بَيْعِ آجِلٍ بِعَاجِلٍ». ← بَيْعِ كَالِئٍ بِكَالِئٍ، ← بَيْعِ الْغَرَرِ» ← بيع الْمَجْر ← الشِّغَارِ ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← ابْنِ عُمَرَ
Hadith 6357
