مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ مِنْهُ فِي الْمُنَافِقِينَ] · حديث 420
420 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «مَرَّ رَسُولُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيِّ ابْنِ سَلُولَ وَهُوَ فِي ظِلٍّ، فَقَالَ: قَدْ غَبَّرَ عَلَيْنَا ابْنُ أَبِي كَبْشَةَ، فَقَالَ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ: وَالَّذِي أَكْرَمَكَ وَأَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ، لَئِنْ شِئْتَ لَأَتَيْتُكَ بِرَأْسِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا، وَلَكِنْ بِرَّ أَبَاكَ وَأَحْسِنْ صُحْبَتَهُ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَقَالَ: تَفَرَّدَ بِهِ زَيْدُ بْنُ بِشْرٍ الْحَضْرَمِيُّ. قُلْتُ: وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا گزر ( رئیس المنافقین ) عبداللہ بن ابی بن سلول کے پاس سے ہوا، جو سائے میں موجود تھا ، اس نے کہا : اے ابو کبثہ کے صاحبزادے ! آپ نے ہم پر غبار ڈال دیا ہے ( بعد میں ) اس کے بیٹے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ ( جو صحابی رسول ہیں ، انہوں ) نے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ) کہا : اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو عزت عطا کی ہے اور آپ پر کتاب نازل کی ہے ، اگر آپ چاہیں ، تو میں آپ کے پاس اس کا ( یعنی اپنے باپ عبداللہ بن ابی بن سلول کا ) سر لے آتا ہوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ، تم اپنے باپ کے ساتھ نکی کرو اور اس کے ساتھ اچھے طریقے سے رہو !َ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، وہ فرماتے ہیں : زید بن بشر حضرمی اسے نقل کرنے میں منفرد ہے ۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
النَّبِيُّ لَا، وَلَكِنْ بِرَّ أَبَاكَ وَأَحْسِنْ صُحْبَتَهُ» رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، ← ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ: وَالَّذِي أَكْرَمَكَ وَأَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ، لَئِنْ شِئْتَ لَأَتَيْتُكَ بِرَأْسِهِ، ← قَدْ غَبَّرَ عَلَيْنَا ابْنُ أَبِي كَبْشَةَ، ← «مَرَّ رَسُولُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيِّ ابْنِ سَلُولَ وَهُوَ فِي ظِلٍّ، ← أَبِي هُرَيْرَةَ،
Hadith 420
