مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الزَّكَاةِ] ‹ بَابُ فَرْضِ الزَّكَاةِ] · حديث 4324
4324 - عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " «إِنَّ اللَّهَ فَرَضَ عَلَى أَغْنِيَاءِ الْمُسْلِمِينَ فِي أَمْوَالِهِمْ بِقَدْرِ الَّذِي يَسَعُ فُقَرَاءَهُمْ، وَلَنْ يُجْهَدَ الْفُقَرَاءُ إِذَا جَاعُوا وَعَرَوْا إِلَّا بِمَا يُضَيِّعُ أَغْنِيَاؤُهُمْ، أَلَا وَإِنَّ اللَّهَ يُحَاسِبُهُمْ حِسَابًا شَدِيدًا، وَيُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَقَالَ: تَفَرَّدَ بِهِ ثَابِتُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّاهِدُ. قُلْتُ: ثَابِتٌ مِنْ رِجَالِ الصَّحِيحِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا، وَفِيهِمْ كَلَامٌ.
حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے خوش حال افراد پر ان کے اموال میں اس حساب سے زکوٰۃ فرض قرار دی ہے ،جوان کے غریبوں کے لئے گنجائش کر دے ،اور جب غریب بھو کے ہوں، اور انہیں لباس کی ضرورت ہو ،تو انہیں مشکل نہ ہوم البتہ اس چیز کا معاملہ مختلف ہے، جو چیز ان کے خوشحال لوگ ضائع کر دیتے ہیں، خبردار ! الله تعالیٰ ان سے زبردست حساب لے گا ،اور انہیں دردناک عذاب دے گا‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اورمعجم اوسط میں نقل کی ہے، وہ فرماتے ہیں: ثابت بن محمد نامی زاہد، اس روایت نقل کرنے میں منفرد ہے۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: ثابت نامی شخص ’’صحیح‘‘ کے رجال میں سے ہے۔ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے۔
عَلِيٍّ،
Hadith 4324
