مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّلَاةِ] ‹ بَابٌ فِي النَّوْمِ قَبْلَهَا وَالْحَدِيثِ بَعْدَهَا] · حديث 1759
1759 - عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: «كُنْتُ رَجُلًا نَوَّامًا وَكُنْتُ إِذَا صَلَّيْتُ الْمَغْرِبَ وَعَلَيَّ ثِيَابِي نِمْتُ - أَوْ قَالَ: فَأَنَامُ [قَبْلَ الْعِشَاءِ] فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ ذَلِكَ فَرَخَّصَ لِي». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، وَهُوَ ضَعِيفٌ لِسُوءِ حِفْظِهِ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ.
حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں ایک ایسا شخص تھا جسے نیند بہت آتی تھی، میں مغرب کی نماز ادا کر لیتا تھا اور میں ( باہر جانے کے وقت پہننے والا ) لباس پہنا ہوتا تھا اور پھر بھی میں سو جاتا تھا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : پھر بھی میں عشاء سے پہلے سو جاتا تھا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اس کی اجازت دی۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے، اور اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمٰن بن ابو لیلیٰ ہے ، اور وہ اپنے حافظے کی خرابی کی وجہ سے ضعیف ہے، اور اس میں ایک راوی ایسا بھی ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے۔
فَأَنَامُ [قَبْلَ الْعِشَاءِ] فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ← «كُنْتُ رَجُلًا نَوَّامًا وَكُنْتُ إِذَا صَلَّيْتُ الْمَغْرِبَ وَعَلَيَّ ثِيَابِي نِمْتُ أَوْ ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [prayer book] › Chapter in sleeping before and after it] · Hadith 1759
