مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصِّيَامِ] ‹ بَابٌ فِيمَنْ نَزَلَ بِقَوْمٍ فَأَرَادَ الصَّوْمَ] · حديث 5221
5221 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَلْبَسَهُ اللَّهُ نِعْمَةً فَلْيُكْثِرْ مِنَ الْحَمْدِ لِلَّهِ، وَمَنْ كَثُرَتْ ذُنُوبُهُ فَلْيَسْتَغْفِرِ اللَّهَ، وَمَنْ أَبْطَأَ رِزْقُهُ فَلْيُكْثِرْ مِنْ قَوْلِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، وَمَنْ نَزَلَ بِقَوْمٍ فَلَا يَصُومَنَّ إِلَّا بِإِذْنِهِمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَهُوَ طَوِيلٌ، وَيَأْتِي بِتَمَامِهِ فِي الْبِرِّ وَالصِّلَةِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، وَفِيهِ يُونُسُ بْنُ تَمِيمٍ ; ضَعَّفَهُ الذَّهَبِيُّ بِهَذَا الْحَدِيثِ.
حضرت ابو ہریرہ ؓروایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا ہے: ’’جس شخص کو اللہ تعالیٰ نعمت عطا کرے تواسے بکثرت الحمد للہ کہنا چاہیے جس شخص کے گناہ زیادہ ہوں اسے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرنی چاہیے جس شخص کارزق تاخیر سے آتا ہوا سے کثرت کے ساتھ لاحول ولاقوة الا بالله پڑھنا چاہیے اور جوشخص کسی کے ہاں مہمان ٹھہرے تو وہ ان کی اجازت کے بغیر ہرگز (نفلی) روزہ نہ ر کھے‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ یہ ایک طویل روایت ہے‘ جومکمل روایت کے طور پر آگے چل کر نیکی اور صلہ رحمی سے متعلق باب میں آئے گی‘ اگر اللہ نے چاہا اس روایت کی سند میں ایک راوی یونس بن تمیم ہے‘ جسے امام ذہبی نے اس حدیث کے حوالے سے’’ضعیف‘‘ قرار دیا ہے۔
أَبِي هُرَيْرَةَ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The fasting book] › A door among those who descend by a people and want to fast] · Hadith 5221
