مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْبُيُوعِ] ‹ بَابُ الْوَفَاءِ بِالْوَعْدِ] · حديث 6835
6835 - عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَسَأَلَنِي، وَهُوَ يَظُنُّ أَنِّي لِأُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عُقْبَةَ، فَقُلْتُ: إِنَّمَا أَنَا الْكَلْبِيَّةُ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -[بَيْتِي] فَقَالَ: «أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ؟ [" فَاقْرَأَهْ فِي كُلِّ شَهْرٍ " قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي أَقْوَى عَلَى أَكَثَرَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: " فَاقْرَأَهُ فِي كُلِّ نِصْفِ شَهْرٍ " قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي أَقْوَى عَلَى أَكَثَرَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: " فَاقْرَأَهُ فِي كُلِّ سَبْعٍ، لَا تَزِيدَنَّ، وَبَلَغَنِي أَنَّكَ تَصُومُ الدَّهْرَ " قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي لَأَصُومُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " فَصُمْ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ " قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي أَقْوَى عَلَى أَكَثَرَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: " فَصُمْ مِنْ كُلِّ جُمْعَةٍ يَوْمَيْنِ " قَالَ قُلْتُ إِنِّي أَقْوَى عَلَى أَكَثَرَ مِنْ ذَلِكَ قَالَ] فَصُمْ صَوْمَ دَاوُدَ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا، فَإِنَّهُ أَعْدَلُ الصِّيَامِ عِنْدَ اللَّهِ، وَكَانَ لَا يُخْلِفُ إِذَا وَعَدَ [وَلَا يُخْلِفُ إِذَا لَاقَى]». قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلِهِ: " وَكَانَ لَا يُخْلِفُ إِذَا وَعَدَ ". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
ابوسلمہ بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں: میں حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے ان سے دریافت کیا: وہ یہ گمان کر رہے تھے کہ میں اُمّ کلثوم بنت عقبہ کا بیٹا ہوں، میں نے کہا: میں کلبیہ ہوں، تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس میرے گھر تشریف لائے،آپ نےفرمایا:مجھےیہ بات پتہ چلی ہےکہ تم روزانہ ایک دن اور ایک رات میں پورا قرآن پڑھ لیتے ہو؟ تم مہینے میں ایک مرتبہ پورا قرآن پڑھا کرو، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نےعرض کی:میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نصف مہینے میں پورا پڑھ لیا کرو، میں نے عرض کی: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، نبی اکرم صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا: تم ایک ہفتے میں پورا پڑھ لیا کرو، اس سے زیادہ نہیں، اور مجھے یہ بات پتہ چلی ہے کہ تم روزانہ روزہ رکھ لیتے ہو، میں نے عرض کی : جی ہاں! میں روزہ رکھتا ہوں، تو نبی اکرم صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا تم ہر مہینے میں تین روزے رکھا کرو، میں نے عرض کی : میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، نبی اکرم صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا: تم ہر ہفتے میں دو دن روزہ رکھ لیا کرو، میں نے عرض کی: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، نبی اکرم صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تم حضرت داؤد علیہ السلام کے طریقے کے مطابق ایک دن روزہ رکھا کرو اور ایک دن نہ رکھا کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ روزہ رکھنے کا سب سے مناسب طریقہ ہے اور حضرت داؤد علیہ السلام جب کوئی وعدہ کرتے تھے، تو اس کی خلاف ورزی نہیں کرتے تھے، اور جب دشمن کا سامنا کرتے تھے، تو پچھے نہیں ہٹتے تھے۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’صحیح‘‘ میں مذکور ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں:”جب وہ وعده کرتے تھے، تو اس کی خلاف ورزی نہیں کرتے تھے"۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسحاق ہے اور وہ ثقہ ہے، لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں۔
أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ
Hadith 6835
