مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّلَاةِ] ‹ بَابُ الِاجْتِهَادِ فِي الْقِبْلَةِ] · حديث 1981
1981 - «عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي يَوْمِ غَيْمٍ فِي سَفَرٍ إِلَى غَيْرِ الْقِبْلَةِ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ وَسَلَّمَ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّيْنَا إِلَى غَيْرِ الْقِبْلَةِ! فَقَالَ: " قَدْ رُفِعَتْ صَلَاتُكُمْ بِحَقِّهَا إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ أَبُو عَبْلَةَ وَالِدُ إِبْرَاهِيمَ، ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ، وَاسْمُهُ شِمْرُ بْنُ يَقْظَانَ.
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے سفر کے دوران بادل والے دن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کی جس میں رخ قبلہ کی طرف نہیں تھا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز مکمل کر لی اور سلام پھیر دیا تو سورج روشن ہو گیا ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ہم نے قبلہ کی طرف کے علاوہ رخ کرکے نماز ادا کی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگوں کی نماز اس کے حق کے ہمراہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اٹھا لی گئی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابو عیلہ ہے ، جو ابراہیم کا والد ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب " الثقات " میں کیا ہے ، اس کا نام شمر بن یقظان ہے۔
مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [prayer book] › Chapter of Ijtihad in the Qiblah] · Hadith 1981
