مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [أَبْوَابُ الْعِيدَيْنِ] ‹ [بَابُ مَوْتِ الزَّوْجَةِ] · حديث 4007
4007 - عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ: " «لَيْسَ فِي الدُّنْيَا حَسْرَةٌ إِلَّا فِي ثَلَاثٍ: رَجُلٌ كَانَ لَهُ سَقْيٌ وَلَهُ سَانِيَةٌ يَسْقِي عَلَيْهَا أَرْضَهُ، فَلَمَّا اشْتَدَّ ظَمَأُ أَرْضِهِ وَخَرَجَ ثَمَرُهَا مَاتَتْ سَانِيَتُهُ، فَيَجِدُ حَسْرَةً عَلَى سَانِيَتِهِ الَّذِي قَدْ عَلِمَ السَّقْيَ أَنْ لَا يَجِدَ مِثْلَهُ، وَيَجِدُ حَسْرَةً عَلَى ثَمَرَةِ أَرْضِهِ أَنْ تَفْسَدَ قَبْلَ أَنْ يَحِيلَ لَهَا حِيلَةً، وَرَجُلٌ كَانَ عَلَى فَرَسٍ جَوَادٍ فَلَقِيَ جَمْعًا مِنَ الْكُفَّارِ، فَلَمَّا دَنَا بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ انْهَزَمَ أَعْدَاءُ اللَّهِ، فَبَقِيَ الرَّجُلُ عَلَى فَرَسِهِ، فَلَمَّا كَرَبَ أَنْ تُلْحَقَ كُسِرَ بِهِ فَرَسُهُ وَتُرِكَ قَائِمًا عِنْدَهُ، يَجِدُ حَسْرَةً عَلَى فَرَسِهِ أَنْ لَا يَجِدَ مِثْلَهُ، وَيَجِدُ حَسْرَةً عَلَى مَا فَاتَهُ مِنَ الظَّفَرِ الَّذِي كَانَ قَدْ أَشْرَفَ عَلَيْهِ، وَرَجُلٌ تَحْتَهُ امْرَأَةٌ قَدْ رَضِيَ هَيْئَتَهَا، وَدِينَهَا، فَنَفَسَتْ غُلَامًا فَمَاتَتْ بِنَفَسِهِ، فَيَجِدُ حَسْرَةً عَلَى امْرَأَتِهِ يَظُنُّ أَنَّهُ لَنْ يُصَادِفَ مِثْلَهَا، وَيَجِدُ حَسْرَةً عَلَى وَلَدِهَا، يَخْشَى أَنْ يَهْلِكَ ضَيْعَةً قَبْلَ أَنْ يَجِدَ لَهُ مُرْضِعَةً ". قَالَ: " فَهَذِهِ أَكْبَرُ أُولَئِكَ الْحَسَرَاتِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِي بَعْضِهَا: " «أَشَدُّ حَسَرَاتِ بَنِي آدَمَ عَلَى ثَلَاثٍ: رَجُلٌ كَانَتْ لَهُ امْرَأَةٌ حَسْنَاءُ جَمِيلَةٌ» " - فَذَكَرَ نَحْوَهُ بِاخْتِصَارٍ. وَلَهُ سَنَدَانِ: أَحَدُهُمَا حَسَنٌ ; لَيْسَ فِيهِ غَيْرُ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ، وَقَدْ وُثِّقَ.
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’دنیا میں حسرت صرف تین چیزوں پر ہوتی ہے کسی آدمی کے پاس مشکیزہ ہو‘ اور پانی والی اونٹنی ہو ‘ اور وہ اس پرپانی لا د کر اپنی زمین پر جائے جب اس کی زمین کی پیاس شدید ہو چکی ہو ‘ اور پھل نکلنے والا ہو اس وقت اس کی پانی والی اونٹنی مرجائے تو وہ اپنی اس اونٹنی پر حسرت کو پا تا ہے جس کے بارے میں وہ یہ جانتا ہے کہ اب وہ اس طرح سے پانی نہیں دے سکے گا ‘ اور وہ اپنی زمین کے پھل پر حسرت پاتا ہے کہ کوئی اور حیلہ کرنے سے پہلے یہ خراب ہوجائے گا یا پھر کوئی شخص اپنے تیز رفتار گھوڑے پر سوار ہو ‘ اور کفار کے لشکر کا سامنا کرے جب وہ ان کے قریب ہو ‘ تواللہ کے دشمن پسپا ہوجائیں اور وہ شخص اپنے گھوڑے پررہ جائے اور جب قریب تھا کہ وہ دشمن تک پہنچتا اسی دوران اس کے گھوڑے کی ٹانگ ٹوٹ جائے اور وہ اس کے پاس کھڑا رہ جائے وہ اپنے گھوڑے کے حوالے سے جوحسرت پاتا ہے اس طرح کی چیز اور کبھی نہیں پائے گا اور وہ اس حوالے سے بھی حسرت کو پائےگا کہ اس کی کامیابی اس سے رہ گئی جو اس کے سامنے آ چکی تھی یا وہ شخص ہے کہ جس کی بیوی ہو ‘ اور وہ اس کی ظاہری شکل وصورت اور اس کے دین کے حوالے سے راضی ہووہ عورت بچے کو جنم دے اور پھر بچے کو جنم دینے کے بعدفوت ہو جائے تو وہ اپنی بیوی کے حوالے سے حسرت کو پاتا ہے وہ یہ گمان کرتا ہے کہ اسے اب اس جیسی بیوی نہیں ملے گی اور وہ اپنی اولا د کے حوالے سے بھی حسرت کو پاتا ہے اسے یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ کہیں ایسانہ ہوکسی دودھ پلانے والی کا انتظام کر نے سے پہلے وہ بچہ بھی ضائع ہو جائے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اور یہ ان حسرتوں میں سے سب سے بڑی ہوتی ہے‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے کبیر میں نقل کی ہے۔ انہوں نے معجم اوسط میں اس کی مانند روایت نقل کی ہے۔ یہ روایت امام بزار نے بھی نقل کی ہے ۔ بعض روایات میں یہ الفاظ ہیں: ’’اولاد آدم کی حسرتوں میں سے سب سے زیادہ شدید تین حسرتیں ہیں ایک وہ شخص جس کی حسین وجمیل بیوی ہو۔۔۔‘‘ اس کے بعد راوی نے اس کی مانند روایت اختصار کے ساتھ نقل کی ہے۔ اس روایت کی دوسندیں ہیں جن میں سے ایک حسن ہے ‘ اور اس میں سعید بن بشیر کے علاوہ کوئی اور ( ضعیف ) راوی نہیں ہے‘ اور اس کی بھی تو ثیق کی گئی ہے۔
سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ
Hadith 4007
