مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْحَجِّ] ‹ باب · حديث 5622
5622 - وَعَنْ أَبِي نَضْرَةٍ قَالَ: «حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ خُطْبَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَسَطِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ فَقَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ رَبَّكُمْ وَاحِدٌ وَأَبَاكُمْ وَاحِدٌ، أَلَا لَا فَضْلَ لِعَرَبِيٍّ عَلَى عَجَمِيٍّ، وَلَا لِعَجَمِيٍّ عَلَى عَرَبِيٍّ، وَلَا أَسْوَدَ عَلَى أَحْمَرَ، وَلَا أَحْمَرَ عَلَى أَسْوَدَ إِلَّا بِالتَّقْوَى، أَبَلَّغْتُ؟ ". قَالُوا: بَلَّغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ثُمَّ قَالَ: " أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟ ". قَالُوا: يَوْمٌ حَرَامٌ. ثُمَّ قَالَ: " أَيُّ شَهْرٍ هَذَا؟ ". قَالُوا: شَهْرٌ حَرَامٌ. قَالَ: " أَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟ ". قَالُوا: بَلَدٌ حَرَامٌ. قَالَ: " فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ حَرَّمَ بَيْنَكُمْ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ ". قَالَ: وَلَا أَدْرِي. قَالَ: " وَأَعْرَاضَكُمْ " أَمْ لَا؟ " كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، أَبَلَّغْتُ؟ ". قَالُوا: وَبَلَّغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: " لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
ابونضرہ بیان کرتے ہیں: مجھے اس شخص نے یہ حدیث بیان کی جنہوں نے ایام تشریق کے درمیانی دن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ سنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے لوگو! تمہارا پروردگارا ایک ہے اور تمہارے جدامجد ( یعنی حضرت آدم علیہ السلام ) ایک ہیں خبردار کسی عربی کو کسی عجمی پر اورکسی عجمی کوکسی عربی پرکسی سیاہ فام کو کسی سفید فام پر اور کسی سفید فام کو کسی سیاہ فام پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے البتہ تقوی ٰکے حوالے سے (فضیلت ہونے کا معاملہ مختلف ہے ) کیا میں نے تبلیغ کر دی ہے لوگوں نے عرض کی : اللہ کے رسول نے تبلیغ کر دی ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ کون سا دن ہے لوگوں نے عرض کی : یہ حرمت والا دن ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : یہ کون سا مہینہ ہے لوگوں نے عرض کی : یہ حرمت والا مہینہ ہے آپ نے دریافت کیا یہ کون سا شہر ہے لوگوں نے عرض کی: یہ حرمت والا شہر ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہارے درمیان تمہاری جانوں اور تمہارے اموال کو قابل احترام قرار دے دیا ہے راوی کہتے ہیں : مجھے نہیں معلوم کہ آپ نے اس میں لفظ تمہاری عزتوں استعمال کیا تھا یا نہیں کیا تھا ( پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ) جس طرح تمہارا یہ دن تمہارے اس مہینے میں تمہارے اس شہر میں قابل احترام ہے کیا میں نے تبلیغ کر دی ہے لوگوں نے عرض کی : اللہ کے رسول نے تبلیغ کر دی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : موجود شخص غیر موجود شخص تک تبلیغ کر دے۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔
يَا أَيُّهَا النَّاسُ ← خُطْبَةَ النَّبِيِّ فِي وَسَطِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ ← مَنْ ← أَبِي نَضْرَةَ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Pilgrimage] › Chapter · Hadith 5622
