مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [أَبْوَابُ الْعِيدَيْنِ] ‹ [بَابُ الْإِيقَاظِ لِلصَّلَاةِ] · حديث 3579
3579 - عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: «دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلَى فَاطِمَةَ مِنَ اللَّيْلِ فَأَيْقَظَنَا لِلصَّلَاةِ قَالَ: ثُمَّ رَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ فَصَلَّى هَوْنًا مِنَ اللَّيْلِ فَلَمْ يَسْمَعْ لَنَا حِسًّا فَرَجَعَ إِلَيْنَا فَأَيْقَظَنَا وَقَالَ: " قُومَا فَصَلِّيَا " قَالَ: فَجَلَسْتُ وَأَنَا أَعْرِكُ عَيْنِي وَأَنَا أَقُولُ: إِنَّا وَاللَّهِ مَا نُصَلِّي إِلَّا مَا كُتِبَ لَنَا إِنَّمَا أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللَّهِ فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا قَالَ: فَوَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَقُولُ وَيَضْرِبُ بِيَدِهِ عَلَى فَخْذِهِ: " مَا نُصَلِّي إِلَّا مَا كُتِبَ لَنَا مَا نُصَلِّي إِلَّا مَا كُتِبَ لَنَا، {وَكَانَ الْإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا} [الكهف: 54]» ". قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ حَكِيمُ بْنُ حَكِيمِ بْنِ عُبَادَةَ ضَعَّفَهُ ابْنُ سَعْدٍ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.
حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میرے پاس اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ہمیں نماز کے لئے بیدار کیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنے گھر چلے گئے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم رات کا کچھ حصہ نماز ادا کرتے رہے لیکن آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو ہماری طرف سے کوئی آہٹ سنائی نہیں دی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہمارے پاس واپس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ہمیں بیدار کیا اور ارشادفرمایا:تم دونوں اٹھ کر نماز ادا کرلو! حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں آنکھیں مل کر بیٹھ گیا اور میں یہ کہہ رہا تھا۔ اللہ کی قسم! بے شک ہم صرف وہ نماز ادا کریں گے جو اللہ تعالی نے ہمارے نصیب میں لکھی ہے کیونکہ ہماری جانیں الله تعالی کے ہاتھ میں ہیں جب وہ ہمیں دوبارہ زندہ کرنا چاہتا ہے ہمیں زندہ (یعنی بیدار کر دیتا ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مڑ گئے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنے زانوں پر ہاتھ مارتے ہوئے یہ کہہ رہے تھے: ہم صرف وہ نماز ادا کریں گے جو ہمارے نصیب میں بھی ہے۔ ہم صرف وہ نماز ادا کریں گے جو ہمارےنصیب میں لکھی ہے بے شک انسان بہت زیادہ بحث کرنے والا ہے۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں): میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت"صحیح " میں اختصار کے ساتھ منقول ہے یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حکیم بن حکیم بن عبادہ ہے جسے ابن سعد نے ضعیف قرار دیا ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے۔
عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ
Hadith 3579
