مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الزَّكَاةِ] ‹ [بَابُ الصَّدَقَةِ لَا تُوَرَّثُ] · حديث 4716
4716 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ «أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَالِي كُلُّهُ صَدَقَةٌ. قَالَ: فَافْتَقَرَ أَبَوَاهُ حَتَّى جَلَسَا مَعَ الْأَوْفَاضِ، ثُمَّ جَاءَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَانَ ابْنُنَا مِنْ أَكْثَرِ الْأَنْصَارِ مَالًا فَتَصَدَّقَ بِمَالِهِ وَافْتَقَرْنَا حَتَّى جَلَسْنَا مَعَ الْأَوْفَاضِ. قَالَ: " صَدَقَةُ ابْنِكُمْ رَدٌّ عَلَيْكُمَا ". ثُمَّ تَوَفَّيَا، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى ابْنِهِمَا: " أَنِ ارْدُدِ الصَّدَقَةَ فَإِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تُوَرَّثُ وَلَا تُعْتَمَرُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ. وَأَحَادِيثُ هَذَا الْبَابِ كُلُّهَا فِي آخِرِ الْفَرَائِضِ.
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرا پورا مال صدقہ ہے راوی بیان کرتے ہیں: اس کے ماں باپ غریب ہو کر تنگ دستی کا شکار ہو کر بیٹھ گئے پھر وہ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارے بیٹے کے پاس انصار میں سب سے زیادہ مال موجود تھا اس نے اپنا سارا مال صدقہ کردیا ہے، اور اب ہم غریب اور تنگ دست ہو کر بیٹھ گئے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: تمہارے بیٹے کا صدقہ تم دونوں کی طرف واپس آجائے گا پھر جب ان دونوں کا انتقال ہو گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے بیٹے کی طرف پیغام بھیجا کہ اب تم صدقہ واپس کر دو کیونکہ صدقے کو وراثت میں منتقل نہیں کیا جاتا اور نہ ہی اسے عمری ٰکے طور پرمنتقل کیا جا تا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن عبدالله بن ابوفروہ ہے، اور وه متروک ہے۔ اس باب سے متعلق تمام احادیث فرائض سے متعلق باب کے آخر میں آئیں گی۔
أَبِي هُرَيْرَةَ «أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ
Hadith 4716
