مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ] ‹ [بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّيْدِ] · حديث 6009
6009 - عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَامَ عُرْفُطَةُ بْنُ نَهِيكٍ التَّمِيمِيُّ، فَقَالَ: «يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي وَأَهْلَ بَيْتِي مَرْزُوقُونَ مِنْ هَذَا الصَّيْدِ وَلَنَا فِيهِ قَسْمٌ وَبَرَكَةٌ، وَهُوَ مَشْغَلَةٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ، وَعَنِ الصَّلَاةِ فِي جَمَاعَةٍ، وَلَنَا إِلَيْهِ حَاجَةٌ أَفَتُحِلُّهُ أَمْ تُحَرِّمُهُ؟ فَقَالَ: " أُحِلُّهُ لِأَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَحَلَّهُ. نِعْمَ الْعَمَلُ، وَاللَّهُ أَوْلَى بِالْعُذْرِ، قَدْ كَانَتْ قَبْلِي لِلَّهِ رُسُلٌ كُلُّهُمْ يَصْطَادُ أَوْ يَطْلُبُ الصَّيْدَ» ". قُلْتُ: وَيَأْتِي بِتَمَامِهِ فِي الْبُيُوعِ فِي الْكَسْبِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ بِشْرُ بْنُ نُمَيْرٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
حضرت صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھے حضرت عرفطہ بن نہیک تمیمی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اوربولےیارسول اللہ ! میں اورمیرے اہل بیت اس شکار کے ذریعے رزق حاصل کرتے ہیں اس میں ہمارے لئے تقسیم بھی ہوتی ہے اور برکت بھی ہوتی ہے لیکن یہ چیز اللہ کے ذکر سے اور با جماعت نماز سے غافل کر دیتی ہے ہمیں اس کی حاجت بھی ہے ‘تو کیا آپ اسے حلال قرار دیتے ہیں یا حرام قرار دیتے ہیں ۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا: میں اسے حلال قرار دیتا ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے حلال قرار دیا ہے یہ ا چھا کام ہے اور اللہ تعالیٰ عذ رقبول کر نے کا زیادہ حق دار ہے مجھ سے پہلے اللہ کے کچھ رسول ایسے تھے جوسب شکار کیا کرتے تھے ( راوی کوشک ہے شاید یہ الفاظ ہیں: )شکار تلاش کیا کرتےتھے‘‘۔(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں: )میں یہ کہتا ہوں :یہ مکمل روایت خرید وفروخت سے متعلق باب میں کمائی کے باب میں آئےگی اگر اللہ نے چاہا۔یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی بشر بن نمیر ہے اور وہ متروک ہے۔
كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ فَقَامَ عُرْفُطَةُ بْنُ نَهِيكٍ التَّمِيمِيُّ، فَقَالَ: ← صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ
Hadith 6009
