مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّلَاةِ] ‹ بَابُ قَصْرِ الْخُطْبَةِ] · حديث 3158
3158 - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " «أَنَّ قِصَرَ الْخُطْبَةِ وَطُولَ الصَّلَاةِ مَئِنَّةٌ مِنْ فِقْهِ الرَّجُلِ فَأَطِيلُوا الصَّلَاةَ وَاقْصُرُوا الْخُطْبَةَ فَإِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا، وَإِنَّهُ سَيَأْتِي بَعْدَكُمْ قَوْمٌ يُطِيلُونَ الْخُطَبَ وَيَقْصُرُونَ الصَّلَاةَ» " رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرَوَى الطَّبَرَانِيُّ بَعْضَهُ مَوْقُوفًا فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُ الْمَوْقُوفِ ثِقَاتٌ، وَفِي رِجَالِ الْبَزَّارِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ وَضَعَّفَهُ النَّاسُ
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: ( آپ نے ارشاد فرمایا ہے: ) "خطبے کو مختصر دینا اور طویل نماز ادا کرنا آدمی کی سمجھ داری کی علامت ہے' تو تم لوگ نماز طویل ادا کرو اور خطبہ مختصر دو' کیونکہ بعض بیان جادو ہوتے ہیں عنقریب تمہارے بعد ایسے لوگ آئیں گے جو طویل خطبہ دیں گے اور مختصر نمازیں ادا کریں گے"۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے امام طبرانی نےمعجم کبیرمیں اس روایت کا کچھ حصہ "موقوف" روایت کے طور پر نقل کیا ہے' اور "موقوف" روایت کے رجال "ثقہ" ہیں امام بزار کے رجال میں قیس بن ربیع نامی راوی ہے' جسے شعبہ اور ثوری نے "ثقہ" قرار دیا ہے' جب کہ دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [prayer book] › Section on shortening the engagement] · Hadith 3158
