مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْبُيُوعِ] ‹ [بَابُ التَّرْغِيبِ فِي إِجَارَةِ الْمَكَانِ الْمُبَارَكِ] · حديث 6548
6548 - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «لَمَّا بَنَى عَمْرُو بْنُ حُرَيْثٍ دَارَهُ أَتَيْتُهُ لِأَسْتَأْجِرَ مِنْهُ بَيْتًا فَقَالَ: مَا تَصَنْعُ بِهِ؟ فَقُلْتُ: أُرِيدُ أَنْ أَجْلِسَ فِيهِ وَأَشْتَرِيَ، وَأَبِيعَ. قَالَ: أَقُلْتَ ذَلِكَ؟ لَأُحَدِّثُكَ فِي هَذِهِ الدَّارِ بِحَدِيثٍ: إِنَّ هَذِهِ الدَّارَ مُبَارَكَةٌ عَلَى مَنْ سَكَنَ فِيهَا، مُبَارَكَةٌ عَلَى مَنْ بَاعَ فِيهَا، وَاشْتَرَى؛ وَذَلِكَ أَنِّي أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعِنْدَهُ مَالٌ مَوْضُوعٌ، فَتَنَاوَلَ بِكَفِّهِ مِنْهُ دَرَاهِمَ، فَدَفَعَهَا إِلَيَّ وَقَالَ: " هَاكَ يَا عَمْرُو هَذِهِ الدَّرَاهِمَ فَأَخَذْتُهَا ثُمَّ مَضَيْتُ بِهَا إِلَى أُمِّي فَقُلْتُ: يَا أُمَّهْ أَمْسِكِي هَذِهِ الدَّرَاهَمَ حَتَّى نَنْظُرَ فِي أَيِّ شَيْءٍ نَضَعُهَا، فَإِنَّهَا دَرَاهِمُ أَعْطَانِيهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَأَخَذْتُهَا، ثُمَّ مَكَثْنَا مَا شَاءَ اللَّهُ حَتَّى قَدِمْنَا الْكُوفَةَ، فَأَرَدْتُ شِرَاءَ دَارٍ، فَقَالَتْ لِي أُمِّي: يَا بُنَيَّ، إِذَا اشْتَرَيْتَ دَارًا، وَهَيَّأْتَ مَالَهَا، فَأَخْبِرْنِي. فَفَعَلْتُ، ثُمَّ جِئْتُ إِلَيْهَا، فَدَعَوْتُهَا، فَجَاءَتْ، وَالْمَالُ مَوْضُوعٌ فَأَخْرَجَتْ شَيْئًا مَعَهَا، فَطَرَحَتْهُ فِي الدَّرَاهِمِ، ثُمَّ خَلَطَتْهَا بِيَدِهَا، فَقُلْتُ: يَا أُمَّهْ، أَيُّ شَيْءٍ هَذِهِ؟ قَالَتْ: يَا بُنَيَّ، هَذِهِ الدَّرَاهِمُ الَّتِي جِئْتَنِي بِهَا، فَزَعَمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَعْطَاكَهَا بِيَدِهِ، فَأَنَا أَعْلَمُ أَنَّ هَذِهِ الدَّارَ مُبَارَكَةٌ لِمَنْ جَلَسَ فِيهَا، مُبَارَكَةٌ لِمَنْ بَاعَ فِيهَا، وَاشْتَرَى». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَأَبُو يَعْلَى قَالَ: «أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وَقَدْ نَحَرَ جَزُورًا، وَقَدْ أَمَرَ بِقَسْمِهَا، فَقَالَ لِلَّذِي يُقَسِّمُهَا: " أَعْطِ عَمْرًا مِنْهَا قِسْمًا ". فَلَمْ يُعْطِنِي، وَأَغْفَلَنِي. فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبَيْنَ يَدَيْهِ دَرَاهِمُ، فَقَالَ: " أَخَذْتَ الْقِسْمَ الَّذِي أَمَرْتُ لَكَ؟ ". قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَعْطَانِي شَيْئًا. قَالَ: " فَتَنَاوَلَ كَفًّا مِنْ دَرَاهِمَ "، ثُمَّ أَعْطَانِيهَا». فَذَكَرَ نَحْوَهُ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.
محمد بن سوقہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: جب عمرو بن حریث نے گھر بنایا، تو میں ان کے پاس آیا تا کہ ان سے ان کا گھر کرائے پر لے لوں، انہوں نے دریافت کیا: تم اس کا کیا کرو گے؟ میں نے کہا: میں یہ چاہتا ہوں کہ میں یہاں بیٹھ کر خرید و فروخت کیا کروں گا، انہوں نے فرمایا: اگر تم یہ بات کہہ رہے، تو پھر میں تمہیں اس گھر کے بارے میں ایک حدیث بیان کرتا ہوں، یہ گھر یہاں رہنے والے کے لئے برکت والا ہے، اور اس شخص کے لئے برکت والا ہوگا، جو اس میں کوئی چیز فروخت کرے یا خریدے، اس کی وجہ یہ ہے، کہ ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ مال رکھا ہوا تھا، آپ نے اس مال میں سے مٹھی بھر درہم لیے اور فرمایا: اے عمرو! یہ لے لو میں نے وہ لے لیے، میں وہ لے کر اپنی والدہ کے پاس آیا، میں نے کہا: اے امی جان! آپ یہ درہم سنبھال کے رکھ لیں ہم بات میں اس بات کا جائزہ لیں گے کہ ہم اسے کہاں خرچ کریں؟ کیونکہ یہ وہ دراہم ہیں، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عطا کیے ہیں اور میں نے لیے ہیں، پھر جتنا عرصہ اللہ کو منظور تھا، اتنا عرصہ گزرگیا یہاں تک کہ ہم لوگ کوفہ آگئے میں نے ایک گھر خریدنے کا ارادہ کیا، تو میری والدہ نے مجھ سے کہا: اے میرے بیٹے! جب تم گھر خریدنے لگو اور اس کی ادائیگی کی تیاری کرلو، تو تم مجھے بتا دینا تو میں نے ایسا ہی کیا پھر میں اپنی والدہ کے پاس آیا میں نے انہیں بلایا جب وہ آئیں تو مال ان کے پاس رکھا ہوا تھا انہوں نے اپنا کچھ مال نکالا اور ان دراہم میں ڈال دیا (جو میں نے ادائیگی میں دینے میں تھے) اور پھر اپنے ہاتھ کے ذریعے انہیں ملادیا میں نے کہا: اے امی جان یہ کیا چیز ہے؟ انہوں نے فرمایا: اے میرے بیٹے! یہ وہ دراہم ہیں جو تم میرے پاس لے کے آئے تھے اور تم نے یہ بات بیان کی تھی کہ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے تمہیں دیے ہیں، تو مجھے یہ پتہ ہے کہ یہ گھر برکت والا ہوگا اس شخص کے لئے، جو اس میں بیٹھے گا اور برکت والا ہوگا، اس شخص کے جو اس میں کوئی چیز فروخت کرے گا، یا خریدے گا۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، امام ابو یعلیٰ نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ( راوی بیان کرتے ہیں:) میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ،آپ نے ایک اونٹ قربان کروایا تھا آپ نے اسے تقسیم کرنے کا حکم دیا ۔تقسیم کرنے والے صاحب سے آپ نے فرمایا: عمرو کو بھی اس میں سے ایک حصہ دے دینا، لیکن ان صاحب نے مجھے نہیں دیا وہ مجھ سے غافل رہ گئے، جب میں اگلے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو آپ کے سامنے کچھ درہم موجود تھے، آپ نے دریافت کیا: میں نے تمہیں جس کے بارے میں ہدایت کی تھی تم نے وہ حصہ لے لیا تھا، راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کی : یا رسول اللہ! انہوں نے مجھے کچھ بھی نہیں دیا، راوی بیان کرتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹھی بھر درہم لئے اور پھر وہ مجھے عطا کر دیے......اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے، جن سے میں واقف نہیں ہوں۔
«لَمَّا بَنَى عَمْرُو بْنُ حُرَيْثٍ دَارَهُ أَتَيْتُهُ لِأَسْتَأْجِرَ مِنْهُ بَيْتًا ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Sales] › [Chapter of wanting to rent a blessed place] · Hadith 6548
