مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [أَبْوَابُ الْعِيدَيْنِ] ‹ [بَابُ سُجُودِ الشُّكْرِ] · حديث 3714
3714 - عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: «خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَوَجَّهَ نَحْوَ مَشْرَبَتِهِ فَدَخَلَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَخَرَّ سَاجِدًا فَأَطَالَ السُّجُودَ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّ اللَّهَ قَبَضَ نَفْسَهُ فِيهَا، فَدَنَوْتُ مِنْهُ فَرَفَعَ رَأْسَهُ قَالَ: " مَنْ هَذَا؟ " قُلْتُ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ: " مَا شَأْنُكَ؟ " قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ سَجَدْتَ سَجْدَةً خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ اللَّهُ قَدْ قَبَضَ نَفْسَكَ فِيهَا قَالَ: " إِنَّ جِبْرِيلَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَانِي فَبَشَّرَنِي فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ: مَنْ صَلَّى عَلَيْكَ صَلَّيْتُ عَلَيْهِ وَمَنْ سَلَّمَ عَلَيْكَ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَسَجَدْتُ لِلَّهِ شُكْرًا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے آپ کارخ اپنے بالا خانے کی طرف تھا آپ اس میں گئے آپ نے قبلہ کی طرف رخ کیا اور سجدے میں چلے گئے آپ نے طویل سجدہ کیا یہاں تک کہ میں نے یہ گمان کیا کہ اللہ تعالی نے سجدے کے دوران آپ کی جان کوقبض کر لیا ہے میں آپ کے قریب آیا تو آپ نے اپناسراٹھایا آپ نے در یافت کیا: کون ہے؟ میں نے عرض کی : عبدالرحمن آپ نے در یافت کیا: تمہیں کیا کام ہے؟ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ نے ایسا سجدہ کیا ہے کہ میں اس اندیشے کا شکار ہو گیا کہ کہیں اللہ تعالی نے اس سجدے کے دوران آپ کی جان کوقبض نہ کرلیاہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبرائیل میرے پاس آئےاور انہوں نے مجھے یہ خوشخبری دی اور بتایا: اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے: جو شخص آپ پر درودبھیجے گا میں اس پر رحمت نازل کروں گا اور جوشخص آپ پر سلام بھیجے گا میں اس پر سلامتی نازل کروں گا ‘ تو میں نے اللہ تعالی کا شکر ادا کرنے کے لئے یہ سجدہ کیا‘‘۔یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔
عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ
Hadith 3714
