مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْعِلْمِ] ‹ بَابُ الِاسْتِنْجَاءِ بِالْمَاءِ] · حديث 1054
1054 - «عَنْ عُوَيْمِ بْنِ سَاعِدَةَ أَنَّهُ حَدَّثَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَاهُمْ فِي مَسْجِدِ قُبَاءَ فَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - قَدْ أَحْسَنَ عَلَيْكُمُ الثَّنَاءَ فِي الطَّهُورِ فِي قِصَّةِ مَسْجِدِكُمْ، فَمَا هَذَا الطَّهُورُ الَّذِي تَطَهَّرُونَ بِهِ؟ " قَالُوا: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَا نَعْلَمُ شَيْئًا إِلَّا أَنَّهُ كَانَ لَنَا جِيرَانٌ مِنَ الْيَهُودِ، فَكَانُوا يَغْسِلُونَ أَدْبَارَهُمْ مِنَ الْغَائِطِ، فَغَسَلْنَا كَمَا غَسَلُوا». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ، وَفِيهِ شُرَحْبِيلُ بْنُ سَعْدٍ، ضَعَّفَهُ مَالِكٌ وَابْنُ مَعِينٍ وَأَبُو زُرْعَةَ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.
حضرت عویم بن ساعدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان لوگوں کے پاس مسجد قبا میں تشریف لائے اور ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہاری مسجد کا ذکر کرتے ہوئے ' طہارت کے حوالے سے تم لوگوں کی تعریف فرمائی ہے ' تو طہارت کا وہ طریقہ کیا ہے' جس کو تم اختیار کرتے ہو؟ ان لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم! ہمیں کسی مخصوص چیز کا علم نہیں ہے ' البتہ یہ ہے کہ ہمارے کچھ یہودی پڑوسی ہیں' وہ پاخانہ کرنےکے بعد اپنی شرمگاہوں کو (پانی کے ذریعے ) دھوتے ہیں' تو جس طرح وہ دھوتے ہیں ' اسی طرح ہم بھی دھو لیتے ہیں۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے اپنی تینوں کتابوں میں نقل کیا ہے ' اس کی سند میں ایک راوی شرحبیل بن سعد ہے' جسے امام مالک ' یحییٰ بن معین اورابو زرعہ نے ضعیف قرارد یا ہے' جبکہ ابن حبان نے اسے ثقہ کہا ہے۔
عُوَيْمِ بْنِ سَاعِدَةَ أَنَّهُ حَدَّثَ
Hadith 1054
