مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْبُيُوعِ] ‹ باب · حديث 6561
6561 - «وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ: خَرَجْتُ بِخَلْخَالَيْنِ أَبِيعُهُمَا، وَكَانَ أَهْلُنَا قَدِ احْتَاجُوا إِلَى نَفَقَةٍ فَرَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ، فَقَالَ: أَيْنَ تُرِيدُ؟ قَالَ: قُلْتُ: احْتَاجَ أَهْلُنَا إِلَى نَفَقَةٍ فَأَرَدْتُ بَيْعَ هَذَيْنِ الْخَلْخَالَيْنِ. قَالَ: وَأَنَا قَدْ خَرَجْتُ بِدُرَيْهِمَاتٍ أُرِيدَ بِهَا فِضَّةً أَجْوَدَ مِنْهَا. قَالَ: فَوَضَعَ الْخَلْخَالَيْنِ فِي كِفَّةٍ وَوَضَعَ الدَّرَاهِمَ فِي كِفَّةٍ، فَرَجَحَ الْخَلْخَالَانِ عَلَى الدَّرَاهِمِ شَيْئًا، فَدَعَا بِمِقْرَاضٍ. قَالَ: قُلْتُ: سُبْحَانَ اللَّهِ! هُوَ لَكَ. قَالَ: إِنَّكَ إِنْ تَتْرُكْهُ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَتْرُكُهُ؛ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: " الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ مِثْلًا بِمِثْلٍ، الزَّائِدُ وَالْمُزْدَادُ فِي النَّارِ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ، وَفِي إِسْنَادِ الْبَزَّارِ حَفْصُ بْنُ أَبِي حَفْصٍ؛ قَالَ الذَّهَبِيُّ: لَيْسَ بِالْقَوِيِّ. وَفِي إِسْنَادِ أَبِي يَعْلَى مُحَمَّدُ بْنُ السَّائِبِ الْكَلْبِيُّ؛ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِمَّا نُسِبَ إِلَيْهِ مِنَ الْقَبَائِحِ.
حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں پازیبیں لے کر نکلا، میں انہیں فروخت کرنا چاہ رہا تھا کیونکہ میرے گھر والوں کو خرچ کی ضرورت تھی، میں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دیکھا انہوں نے دریافت کیا: تم کہاں جارہے ہو؟ میں نے کہا: میرے گھر والوں کو خرچ کی ضرورت ہے، تو میں ان دو پازیوں کو فروخت کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں، انہوں نے فرمایا: میں بھی کچھ درہم لے کر نکلا ہوں اور میں ان کے عوض میں ان سے زیادہ عمدہ چاندی حاصل کرنا چاہتا ہوں، راوی بیان کرتے ہیں: تو انہوں نے پازیبیں ایک پلڑے میں رکھیں اور درہم دوسرے پلڑے میں رکھے تو پازیبوں والا پلڑا، در ہم والے کے مقابلے میں کچھ وزنی تھا، تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے قینچی منگوائی میں نے کہا: سبحان اللہ (اتنی تھوڑی سے چاندی کے لئے کیا قیچی منگوانی ہے؟ ) یہ آپ کی ہوئی، انہوں نے فرمایا: اگر تم اسے چھوڑ بھی دوگے، تو اللہ تعالیٰ اسے نہیں چھوڑے گا، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’سونے کے عوض میں سونے کالین دین برابر، برابر ہوگا، چاندی کے عوض میں چاندی کالین دین برابر، برابر ہوگا، اضافی ادا ئیگی کرنے والا یا جس کو اضافی ادائیگی کی گئی ہو، وہ جہنم میں جائیں گے‘‘۔ یہ روایت امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے، امام بزار کی سند میں ایک راوی ابو حفص بن ابو حفص ہے ،امام ذہبی فرماتے ہیں: یہ قوی نہیں ہے، امام ابو یعلیٰ کی سند میں ایک راوی محمد بن سائب کلبی ہے، ہم اس چیز سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، جو اس کی طرف قبیح باتیں منسوب کی گئی ہیں۔
أَبِي رَافِعٍ
Hadith 6561
