مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصِّيَامِ] ‹ [بَابُ الْقُبْلَةِ وَالْمُبَاشَرَةِ لِلصَّائِمِ] · حديث 4957
4957 - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ صُعَيْرٍ، «وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ مَسَحَ عَلَى وَجْهِهِ وَأَدْرَكَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَانُوا يَنْهَوْنِي عَنِ الْقُبْلَةِ تَخَوُّفًا أَنْ أَتَقَرَّبَ لِأَكْثَرَ مِنْهَا، ثُمَّ إِنَّ الْمُسْلِمِينَ الْيَوْمَ يَنْهَوْنِي عَنْهَا، وَيَقُولَ قَائِلُهُمْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَهُ مِنْ حِفْظِ اللَّهِ مَا لَيْسَ لِأَحَدٍ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
حضرت عبداللہ بن ثعلبہ بن صعیر رضی اللہ عنہ، جن کی پیشانی پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دست مبارک پھیرا تھا اور انہوں نے صحابہ کرام کا زمانہ پایا ہے، وہ بیان کرتے ہیں: لوگ مجھے بوسہ دینے سے منع کرتے تھے اس اندیشے کے تحت کہ میں اس سے آگے بڑھ جاؤں گا پھر آج بھی مسلمان مجھے اس سے منع کرتے ہیں اور ان میں سے کوئی شخص یہ کہتا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو الله تعالىٰ کی طرف سے جو حفاظت حاصل تھی وہ کسی اورکوحاصل نہیں ہے۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے، اور اس کے جال ’’صحیح‘‘ کے رجال ہیں۔
الْقُبْلَةِ تَخَوُّفًا ← كَانُوا يَنْهَوْنِي
Hadith 4957
