مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ مِنْهُ ثَالِثٌ] · حديث 141
141 - وَعَنْ مَعْنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: «جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَأَخَذَ بِخِطَامِ نَاقَةِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ يُقَرِّبُنِي مِنَ الْجَنَّةِ وَيُبَاعِدُنِي مِنَ النَّارِ، فَقَالَ: " لَقَدْ أَوْجَزْتَ فِي الْمَسْأَلَةِ، وَلَقَدْ أَعْرَضْتَ: تَعْبُدُ اللَّهَ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَتُصَلِّي الْخَمْسَ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ، وَمَا كَرِهْتَ أَنْ يَأْتِيَهُ النَّاسُ إِلَيْكَ فَاكْرَهْهُ لَهُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ وَائِلٌ أَبُو كُلَيْبِ بْنُ وَائِلٍ، لَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُ.
حضرت معن بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی آیا اور اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی کی لگام پکڑ لی اور بولا : اے اللہ کے نبی ! میری رہنمائی ایسے عمل کی طرف کیجئے ، جو مجھے جنت کے قریب کر دے اور وہ مجھے جہنم سے دور کر دے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: " تم نے مختصر سوال کیا ہے، لیکن بڑی بات پوچھ لی ہے، تم اللہ تعالیٰ کی عباد ت کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ تم پانچ نمازیں ادا کرو، تم رمضان کے روزے رکھو اور جس چیز کے بارے میں تم نا پسند کر تے ہو کہ لوگ تمہارے ساتھ ایسا کریں ، تو اس چیز کو تم بھی ان لوگوں کے لیے ناپسند کرو" یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی وائل ابو کلیب بن وائل ہے ، میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے۔
يَا نَبِيَّ اللَّهِ، دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ يُقَرِّبُنِي مِنَ الْجَنَّةِ وَيُبَاعِدُنِي مِنَ النَّارِ، ← «جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَأَخَذَ بِخِطَامِ نَاقَةِ النَّبِيِّ ← معن بن يزيد
Hadith 141
