مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّلَاةِ] ‹ بَابُ التَّأْمِينِ] · حديث 2662
2662 - عَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ: «بَيْنَا أَنَا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذِ اسْتَأْذَنَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ فَأَذِنَ لَهُ فَقَالَ: السَّامُ عَلَيْكَ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " وَعَلَيْكَ " - فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ: " إِنَّهُمْ لَا يَحْسُدُونَا عَلَى شَيْءٍ كَمَا يَحْسُدُونَا عَلَى الْجُمُعَةِ الَّتِي هَدَانَا اللَّهُ لَهَا وَضَلُّوا عَنْهَا، وَعَلَى الْقِبْلَةِ الَّتِي هَدَانَا اللَّهُ لَهَا وَضَلُّوا عَنْهَا، وَعَلَى قَوْلِنَا خَلْفَ الْإِمَامِ: آمِينَ» ". وَقَدْ تَقَدَّمَ الْحَدِيثُ بِتَمَامِهِ فِي الْقِبْلَةِ وَالْكَلَامُ عَلَيْهِ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس موجود تھی ، اسی دوران ایک یہودی شخص نے اندر آنے کی اجازت مانگی نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے اجازت دے دی اس نے کہا: السام علیک ( یعنی آپ کو موت آئے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم پر بھی ہو ( یعنی تمہیں بھی آئے ) اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جس میں آگے چل کر یہ الفاظ ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : " یہ لوگ ہم سے کسی بھی چیز کے حوالے سے اتنا حسد نہیں کرتے جتنا حسد یہ جمعہ کے حوالے سے کرتے ہیں جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہدایت نصیب کی اور یہ لوگ اس کے حوالے سے گمراہ رہ گئے اور قبلہ کے حوالے سے ( حسد ) کرتے ہیں جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہدایت نصیب کی اور یہ لوگ اس کے حوالے سے گمراہ رہ گئے اور امام کے پیچھے ہمارے آمین کہنے پر ( یہ لوگ ہم سے حسد کرتے ہیں ) " ۔ اس سے پہلے یہ مکمل حدیث قبلہ سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ، اور اس حدیث پر کلام بھی گزر چکا ہے ۔
الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ ← النَّبِيُّ «وَعَلَيْكَ» ← السام عليك))، ← عِنْدَ النَّبِيِّ إِذِ اسْتَأْذَنَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ فَأَذِنَ لَهُ ← بَيْنَا ← عَائِشَةَ
Hadith 2662
