مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْبُيُوعِ] ‹ [بَابُ قَضَاءِ دَيْنِ الْمَيِّتِ وَحَدِيثُ جَابِرٍ فِي قَضَاءِ دَيْنِ أَبِيهِ] · حديث 6679
6679 - عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى الْمُشْرِكِينَ لِيُقَاتِلَهُمْ. قَالَ لِي أَبِي: يَا جَابِرُ، لَا عَلَيْكَ أَنْ تَكُونَ فِي نَظَّارِي أَهْلِ الْمَدِينَةِ حَتَّى تَعْلَمَ إِلَى مَا يَصِيرُ أَمْرُنَا، فَإِنِّي وَاللَّهِ لَوْلَا [أَنِّي] أَتْرُكُ بَنَاتٍ لِي بَعْدِي لَأَحْبَبْتُ أَنْ تُقْتَلَ بَيْنَ يَدَيَّ. قَالَ: فَبَيْنَا أَنَا فِي النَّظَّارِينَ إِذْ جَاءَتْ عَمَّتِي بِأَبِي وَخَالِي عَادِلَتَهُمَا عَلَى نَاضِحٍ، فَدَخَلَتْ بِهِمَا الْمَدِينَةَ لِنَدْفِنَهُمَا فِي مَقَابِرِنَا إِذْ لَحِقَ رَجُلٌ يُنَادِي: [أَلَا] إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْمُرُكُمَا أَنْ تَرْجِعُوا بِالْقَتْلَى فَيُدْفَنُوا فِي مَصَارِعِهِمَا، حَيْثُ قُتِلُوا، فَرَجَعْنَاهُمَا، فَدَفَنَّاهُمَا حَيْثُ قُتِلَا. فَبَيْنَا أَنَا فِي خِلَافَةِ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ إِذْ جَاءَنِي رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا جَابِرُ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، لَقَدْ أَثَارَ أَبَاكَ عُمَّالَ مُعَاوِيَةَ [فَبَدَا]؛ فَخَرَّجَ طَائِفَةً مِنْهُ، فَأَتَيْتُهُ، فَوَجَدْتُهُ عَلَى النَّحْوِ الَّذِي دَفَنْتَهُ لَمْ يَتَغَيَّرْ إِلَّا مَا لَمْ يَدَعِ الْقَتْلُ أَوِ الْقَتِيلُ. فَوَارَيْتُهُ. قَالَ: وَتَرَكَ أَبِي دَيْنًا عَلَيْهِ مِنَ التَّمْرِ فَاشْتَدَّ عَلَيَّ بَعْضُ غُرَمَائِهِ فِي التَّقَاضِي، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّ أَبِي أُصِيبَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا وَعَلَيْهِ دَيْنٌ مِنَ التَّمْرِ، وَقَدِ اشْتَدَّ عَلَيَّ بَعْضُ غُرَمَائِهِ فِي التَّقَاضِي فَأُحِبُّ أَنْ تُعِينَنِي عَلَيْهِ لَعَلَّهُ أَنْ يُنْظِرَنِي طَائِفَةً مِنْ نَخْلِهِ إِلَى هَذَا الصِّرَامِ الْمُقْبِلِ. قَالَ: " نَعَمْ آتِيكَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ قَرِيبًا مِنْ وَسَطِ النَّهَارِ ". فَجَاءَ، وَجَاءَ مَعَهُ حَوَارِيُّوهُ، وَقَدِ اسْتَأْذَنَ، وَدَخَلَ، وَقَدْ قُلْتُ لِامْرَأَتِي: إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَاءَ الْيَوْمَ فَلَا أَرَيْتُكِ، وَلَا تُؤْذِي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَيْتِي فِي شَيْءٍ، وَلَا تُكَلِّمِيهِ، فَدَخَلَ، فَفَرَشَتْ لَهُ فِرَاشًا وَوِسَادَةً، فَوَضَعَ رَأْسَهُ فَنَامَ. قَالَ: وَقُلْتُ لِمَوْلًى لِي: اذْبَحْ هَذِهِ الْعَنَاقَ وَهِيَ دَاجِنٌ سَمِينَةٌ، وَالْوَحَاءَ وَالْعَجَلَ، افْرُغْ مِنْهَا قَبْلَ أَنْ يَسْتَيْقِظَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وَأَنَا مَعَكَ. فَلَمْ يَزَلْ فِيهَا حَتَّى فَرَغْنَا، وَهُوَ نَائِمٌ، فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا اسْتَيْقَظَ يَدْعُو بِالطَّهُورِ، وَإِنِّي أَخَافُ إِذَا فَرَغَ أَنْ يَقُومَ فَلَا يَفْرَغَنَّ مِنْ وُضُوئِهِ إِلَّا وَالْعَنَاقُ بَيْنَ يَدَيْهِ. فَلَمَّا قَامَ قَالَ: " يَا جَابِرُ، ائْتِنِي بِطَهُورٍ ". فَلَمْ يَفْرُغْ مِنْ طَهُورِهِ حَتَّى وُضِعَتِ الْعَنَاقُ عِنْدَهُ فَنَظَرَ إِلَيَّ فَقَالَ: " كَأَنَّكَ قَدْ عَلِمْتَ حُبَّنَا اللَّحْمَ، ادْعُ إِلَيَّ أَبَا بَكْرٍ ". قَالَ: ثُمَّ جَاءَ حَوَارِيُّوهُ الَّذِينَ كَانُوا عِنْدَهُ، فَدَخَلُوا فَضَرَبَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَدِهِ، وَقَالَ: " بِسْمِ اللَّهِ كُلُوا ". فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، وَفَضَلَ لَحْمٌ كَثِيرٌ قَالَ: وَاللَّهِ إِنَّ مَجْلِسَ بَنِي سَلَمَةَ لَيَنْظُرُونَ إِلَيْهِ، وَهُوَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنْ أَعْيُنِهِمْ مَا يَقْرَبُهُ أَحَدٌ مِنْهُمْ مَخَافَةَ أَنْ يُؤْذُوهُ، فَلَمَّا فَرَغُ قَامَ وَقَامَ أَصْحَابُهُ، فَخَرَجُوا بَيْنَ يَدَيْهِ، وَكَانَ يَقُولُ: " خَلُّوا ظَهْرِي لِلْمَلَائِكَةِ ". وَاتَّبَعْتُهُمْ حَتَّى بَلَغُوا أُسْكُفَّةَ الْبَابِ قَالَ: وَأَخْرَجَتِ امْرَأَتِي صَدْرَهَا، وَكَانَتْ مُسْتَتِرَةً بِسَفِيفٍ فِي الْبَيْتِ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلِّ عَلَيَّ وَعَلَى زَوْجِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكَ. فَقَالَ: " صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكِ وَعَلَى زَوْجِكِ ". ثُمَّ قَالَ: " ادْعُ لِي فُلَانًا " لِغَرِيمِي الَّذِي اشْتَدَّ عَلَيَّ فِي الطَّلَبِ قَالَ: فَجَاءَ، فَقَالَ: " أَيْسِرْ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي إِلَى الْمَيْسَرَةِ - طَائِفَةً مِنْ دَيْنِكَ الَّذِي عَلَى أَبِيهِ إِلَى هَذَا الصِّرَامِ الْمُقْبِلِ ". قَالَ: مَا أَنَا بِفَاعِلٍ. وَاعْتَلَّ، وَقَالَ: إِنَّمَا هُوَ مَالُ يَتَامَى. فَقَالَ: " أَيْنَ جَابِرٌ؟ ". فَقَالَ: أَنَا ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " كُلٌّ لَهُ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَوْفَ يُوَفِّيهِ ". فَنَظَرْتُ إِلَى السَّمَاءِ، فَإِذَا الشَّمْسُ قَدْ دَلَكَتْ قَالَ: " الصَّلَاةَ يَا أَبَا بَكْرٍ "، فَانْدَفَعُوا إِلَى الْمَسْجِدِ، قُلْتُ: قَرِّبْ أَوْعِيَتَكَ. فَكِلْتُ لَهُ مِنَ الْعَجْوَةِ، فَوَفَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَفَضَلَ لَنَا مِنَ التَّمْرِ كَذَا وَكَذَا، فَجِئْتُ أَسْعَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -[فِي مَسْجِدِهِ] كَأَنِّي شَرَارَةٌ، فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَمْ تَرَ أَنِّي كِلْتُ لِغَرِيمِي تَمْرَهُ، فَوَفَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَفَضَلَ لَنَا مِنَ التَّمْرِ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ: أَيْنَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ؟ ". فَجَاءَ يُهَرْوِلُ، فَقَالَ: " سَلْ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ غَرِيمِهِ وَتَمْرِهِ ". فَقَالَ: مَا أَنَا بِسَائِلِهِ، قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَوْفَ يُوَفِّيهِ إِذْ أَخْبَرْتَ [أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَوْفَ يُوَفِّيهِ]، فَكَرَّرَ عَلَيْهِ الْكَلِمَةَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ: مَا أَنَا بِسَائِلِهِ. وَكَانَ لَا يُرَاجَعُ بَعْدَ الْمَرَّةِ الثَّالِثَةِ. فَقَالَ: " يَا جَابِرُ، مَا فَعَلَ غَرِيمُكَ وَتَمْرُكَ؟ ". قَالَ: قُلْتُ: وَفَّاهُ اللَّهُ وَفَضَلَ لَنَا مِنَ التَّمْرِ كَذَا وَكَذَا. فَرَجَعَ إِلَى امْرَأَتِهِ، وَقَالَ: أَلَمْ أَنْهَكِ أَنْ تُكَلِّمِي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ: كُنْتَ تَظُنُّ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُورِدُ رَسُولَهُ بَيْتِي، ثُمَّ يَخْرُجُ، وَلَا أَسْأَلُهُ الصَّلَاةَ عَلَيَّ، وَعَلَى زَوْجِي قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ»؟. قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ، وَغَيْرِهِ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.
حضرت جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ سے نکل کر مشرکین کی طرف گئے، تا کہ ان کے ساتھ لڑائی کریں، میرے والد نے مجھ سے فرمایا: اے جابر! تم پرکوئی حرج نہیں ہوگا کہ اگر تم مدینہ میں رہ کر اس بات کا جائزہ لو، یہاں تک کہ تمہیں اس بات کا پتہ چل جائے کہ ہمارا انجام کیا ہوا؟ اللہ کی قسم! اگر مجھے اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ میں اپنے بعد بیٹیاں چھوڑ کے جارہا ہوں، تو مجھے یہ بات پسند تھی کہ تم میرے سامنے شہید ہو جاتے، حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں مدینہ منورہ میں منتظر لوگوں میں شامل تھا، اسی دوران میری پھوپھی، میرے والد اور میرے ماموں کی لاشیں لے کے آئیں، ان دونوں کی میتیں ایک اونٹنی پر موجود تھیں، وہ ان دونوں کو لے کر مدینہ منورہ آگئی تھیں، تا کہ ہم ان دونوں کو اپنے قبرستان میں دفن کریں، اسی دوران ایک شخص آیا اور اس نے یہ اعلان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تم لوگوں کو حکم دیا ہے کہ مقتولین کو واپس لے جاؤ اور جہاں وہ شہید ہوئے ہیں، انہیں وہاں دفن کیا جائے، تو ہم انہیں واپس لے گئے اور ہم نے ان دونوں کو وہاں دفن کیا جہاں وہ شہید ہوئے تھے۔ (حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:) حضرت معاویہ بن سفیان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ایک شخص میرے پاس آیا اور بولا : اے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ! حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے اہلکاروں نے آپ کے والد کی قبر کوخراب کیا ہے، جس سے ان کا جسم ظاہر ہو گیا ہے، راوی کہتے ہیں : میں وہاں آیا تو میں نے یہ صورت حال پائی کہ وہ بالکل ویسے ہی تھے جیسے میں نے انہیں دفن کیا تھا، ان میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی، البتہ اس چیز کا معاملہ مختلف ہے، جو قتل چھوڑ جاتا ہے (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کوشک ہے) پھر میں نے انہیں ڈھانپ دیا۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میرے والد نے اپنے ذمہ کھجوریں قرض کے طور پر چھوڑی تھیں، ان کے قرض خواہوں نے تقاضا کرتے ہوئے میرے ساتھ سختی کی، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے عرض کی: اے اللہ! کے نبی! میرے والد فلاں موقع پر جام شہادت نوش کر گئے تھے، ان کے ذمہ کچھ کھجوروں کی ادائیگی قرض کے طور پر لازم تھی، تو ان کے بعض قرض خواہوں نے تقاضا کرتے ہوئے میرےساتھ سختی کی ہے، میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ اس حوالے سے میری مدد کریں، ہو سکتا ہے کہ وہ لوگ مجھے اتنی مہلت دے دیں کہ جب تک اگلی دفعہ کھجوریں اتارنے کا وقت نہیں آجاتا، نبی اکرم صلى الله عليہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ٹھیک ہے اگر اللہ نے چاہا، تو میں دوپہر کے قریب تمہارے پاس آجاؤں گا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے،آپ کےساتھ آپ کے حواری بھی تھے،آپ نےاندرآنےکی اجازت طلب کی،پھر اندر تشریف لے آئے، میں نے اپنی بیوی سے کہا: آج نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تشریف لانا ہے، تو میں یہ نہ دیکھوں کہ تم نے میرے گھر میں کسی حوالے سے اللہ کے رسول کو اذیت پہنچانے والا کوئی کام کیا ہو، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی بات بھی نہ کرنا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اس عورت نے آپ کے لئے چٹائی بچھائی اور تکیہ رکھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر رکھا اور سو گئے، حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اپنے غلام سے کہا: کہ تم اس بکری کےبچے کو زبح کردو، جوموٹا تازہ تھا، اورتم یہ کام جلدی اور سرعت کے ساتھ کرنا، تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بیدار ہونے سے پہلے اس کام سے فارغ ہو جانا، میں تمہارا ساتھ دیتا ہوں وہ ایسا کرتا رہا، یہاں تک کہ ہم اس سے فارغ ہو گئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس دوران سوئے رہے، میں نے اس سے کہا: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوں گے تو وضو کے لئے پانی طلب کریں گے اور میری یہ خواہش ہے کہ جب آپ اٹھ کر فارغ ہوں، تو آپ کے وضو سے فارغ ہونے تک کھانا آپ کے سامنے ہونا چاہیے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے، تو آپ نے فرمایا: اے جابر! میرے وضو کا پانی لے کے آؤ! ابھی آپ وضو کرکے فارغ نہیں ہوئے تھے کہ اسی دوران وہ گوشت آپ کے سامنے رکھ دیا گیا تھا، آپ نے میری طرف دیکھا اور ارشاد فرمایا: تمہیں یہ پتہ تھا کہ ہمیں گوشت پسند ہے، تم ابوبکر کو میرے پاس بلا کے لاؤ! حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر نبی اکرم صلى الله عليہ وسلم کے وہ ساتھی بھی تشریف لے آئے، جو آپ کے ساتھ پہلے موجود تھے، حضرات اندر آئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اشارہ کر کے ارشاد فرمایا: الله کا نام لے کر کھانا شروع کرو، ان حضرات نے کھانا کھایا، یہاں تک کہ وہ سیر ہوگئے اور پھر بھی بہت سا گوشت بچ گیا، حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم بنو سلمہ کی محفل میں لوگ آپ کی طرف دیکھ رہے تھے اور آپ ان لوگوں کے نزدیک ان کی آنکھوں سے زیادہ محبوب تھے، لیکن اس کے باوجود کوئی آپ کے قریب نہیں آتا تھا، اس اندیشے کے تحت کی کہیں آپ کو ازیت نہ پہنچا دے، جب آپ فارغ ہوئے، تو آپ اٹھ کھڑے ہوئے اور آپ کے اصحاب بھی اٹھ کھڑے ہوئے، وہ حضرات آپ سے آگے نکل گئے، آپ نے ارشاد فرمایا: ’’میرے پیچھے والی جگہ فرشتوں کے لئے چھوڑ دو‘‘۔ میں اُن حضرات کے پیچھے چلتا ہوا آیا، یہاں تک کہ جب یہ حضرات دروازے کی چوکھٹ پر پہنچے، تو میری بیوی نے گھر کے پردے کے پیچھے سے منہ نکال کر عرض کی: یا رسول اللہ! آپ میرے لئے اور میرے شوہر کے لئے دعائے رحمت کردیں! اللہ تعالیٰ آپ پر درود نازل کرے، نبی اکرم صلى الله عليہ وسلم نے فرمایا: الله تعالیٰ تم پر اور تمہارے شوہر پر رحمت نازل کرے! پھر آپ نے فرمایا: میرے پاس فلاں شخص کو بلا کر لاؤ! یہ اس قرض خواہ کے بارے میں تھا، جس نے مطالبہ کرتے ہوئے میرے ساتھ سختی کی ہوئی تھی، حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: وہ شخص آیا، تو نبی اکرم صلى الله عليہ وسلم نے فرمایا: جابر بن عبداللہ کو آسانی فراہم کرو! جب تک اسے گنجائش میسر نہیں آجاتی، جو اس قرض کے حوالے سے ہو، جو اس کے والد کے ذمہ تھا، یہ آسانی اس وقت تک دو، جب تک اگلی مرتبہ کھجوریں اتارنے کا وقت نہیں آتا، اس شخص نے کہا: میں ایسا نہیں کروں گا، اس نے علت پیش کی اور یہ کہا: کہ یہ یتیموں کا مال ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: جابر کہاں ہے؟ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ! میں یہاں ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو ماپ کر دو! الله تعالیٰ اسے ادائیگی کروا دے گا، حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے آسمان کی طرف دیکھا، سورج ڈھلنے والا تھا، نبی اکرم صلى الله عليہ وسلم نے فرمایا: اے ابوبکر ! نماز کا وقت ہو گیا ہے، یہ حضرات مسجد تشریف لے گئے، میں نے کہا: تم اپنا برتن آگے کرو، پھر میں نے اسے ماپ کر عجوہ کھجوریں دینی شروع کیں تو الله تعالیٰ نے اسے پوری ادائیگی کروادی اور پھر بھی ہمارے پاس اتنی، اتنی کهجوریں بچ گئیں۔ میں دوڑتا ہوا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مسجد میں آیا، یوں جیسے میں کوئی شرارہ ہوں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ! کیا آپ نے یہ بات ملاحظہ فرمائی؟ کہ میں نے اپنے قرض خواہ کو کھجوریں ماپ کر دیں، تو اللہ تعالیٰ نے پوری ادائیگی کروادی، اور پھر بھی ہمارے پاس اتنی، اتنی کھجوریں بچ گئیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہاں ہے؟ وہ تیزی سے چلتے ہوئے آ ئے، نبی اکرم صلى الله عليہ وسلم نے فرمایا : جابر بن عبداللہ سے اس کے قرض خواہ اور اس کی کھجوروں کے بارے میں پوچھو! انہوں نے کہا: میں اس سے نہیں پوچھوں گا، کیونکہ مجھے یہ بات پتہ تھی کہ الله تعالیٰ اس کی پوری ادائیگی کروادے گا، جب آپ نے یہ بات بیان کر دی تھی کہ اللہ تعالیٰ اس کی ادائیگی پوری کروادے گا، یہ مکالمہ تین مرتبہ ہوا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہر مرتبہ یہی گزارش کی کہ میں اس سے نہیں پوچھوں گا، تیسری مرتبہ کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مراجعت نہیں کی جاتی تھی، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: اے جابر! تمہارے قرض خواہ اور کھجوروں کا کیا معاملہ ہوا؟ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے پوری ادائیگی کروا دی اور پھر بھی ہمارے پاس اتنی، اتنی کھجور میں باقی بچ گئیں۔ پھر حضرت جابر رضی اللہ عنہ اپنی اہلیہ کے پاس واپس گئے اور فرمایا : کیا میں نے تمہیں اس بات سے منع نہیں کیا تھا کہ تم نے اللہ کے رسول کے ساتھ کلام نہیں کرنا ہے؟ اس خاتون نے کہا: کیا آپ یہ گمان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو میرے گھر لے کے آئے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے ہی واپس تشریف لے جائیں، اور میں نے آپ سے بھی درخواست نہ کی ہو کہ آپ تشریف لے جانے سے پہلے میرے لئے اور میرے شوہر کے لئے دعائے رحمت کر دیں۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں: میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’صحیح‘‘ میں اور دیگر کتابوں میں اختصار کے ساتھ منقول ہے۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں، صرف نبیح غزی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے۔
لِي أَبِي: يَا جَابِرُ، لَا عَلَيْكَ ← خرج رسول الله من المدينة إلى المشركين ليقاتلهم ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ:
Hadith 6679
