مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْبُيُوعِ] ‹ باب · حديث 6681
6681 - وَرَوَاهُ أَيْضًا بِإِسْنَادٍ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: «كَانَ لِرَجُلٍ عَلَيَّ عَجْوَةٌ فَلَمْ يَكُنْ فِي نَخْلِي وَفَاءٌ فَأَتَيْتُهُ فَكَلَّمْتُهُ فَأَبَى أَنْ يُأَخِّرَ عَنِّي أَوْ يَأْخُذَ بِحِسَابِ ذَلِكَ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَأَتَى هُوَ وَعُمَرُ، فَكَلَّمَهُ، فَقَالَ: " يَا فُلَانُ، خُذْ مِنْ جَابِرٍ، وَأَخِّرْ عَنْهُ ". فَأَبَى فَكَادَ عُمَرُ أَنْ يَبْطِشَ بِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " يَا عُمَرُ مَهْ؛ هُوَ حَقُّهُ ". ثُمَّ قَالَ لِجَابِرٍ: " اذْهَبْ بِنَا إِلَى نَخْلِكَ ". فَانْطَلَقْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى دَخَلَ النَّخْلَ فَجَعَلَ يَنْظُرُ فِي رُءُوسِهَا، ثُمَّ قَالَ: " يَا جَابِرُ، إِذَا جَدَّدْتَ نَخْلَكَ فَأَعْلِمْنِي " قَالَ: فَصَرَمْتُ نَخْلِي وَوَفَّيْتُهُ تَمْرَهُ، وَبَقِيَ لِي عَشَرَةُ أَوْسُقٍ، أَوْ خَمْسَةَ عَشَرَ وَسْقًا». فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
انہوں نے یہ روایت ایک اور سند کے ساتھ نقل کی ہے، جس کے رجال صحیح کے رجال ہیں:(وہ روایت یہ ہے:) حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے ایک شخص کی عجوہ کھجوریں دینی تھیں اور میرے کھجور کے درخت میں پوری ادائیگا کی جتنی کھجوریں نہیں تھیں، میں اس شخص کے پاس گیا اور اس کے بارے میں بات چیت کی، تو اس نے مجھے مہلت دینے انکار کر دیا، یا اس حساب سے وصول کرنے سے انکار کر دیا، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اور آپ کے سامنے یہ بات ذکر کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے،نبی اکرم صلى الله عليہ وسلم نے اس شخص کے ساتھ بات چیت کی، آپ نے فرمایا:اے فلاں! تم جابر سے (کچھ) وصولی کر لو اور کچھ مؤخر کر دو، اس نے یہ بات ماننے سے انکار کردیا، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو مارنا چاہا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم رک جاو! یہ اس کا حق ہے، پھر نبی اکرم صلى الله عليہ وسلم نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے فرمایا تم ہمیں ساتھ لے کر اپنے کھجوروں کے باغ کی طرف جاؤ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلتا ہوا آیا، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے باغ میں داخل ہوئے،آپ نے کھجور کے درختوں کا جائزہ لینا شروع کیا،پھرارشاد فرمایا:اے جابر! جب تم اپنی کھجور کے درخت سے پھل اتارلو گے تو مجھے بتادینا، حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے اپنے کھجوروں کے درختوں سے پھل اتارا، اور اس شخص کو پوری ادائیگی کر دی، پھر بھی میرے پاس دس وسق (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں :) پندرہ وسق باقی بچ گئے......اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے۔
جَابِرٍ
Hadith 6681
