مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْبُيُوعِ] ‹ [بَابُ الْبَيْعِ إِلَى أَجَلٍ] · حديث 6617
6617 - عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى حَلِيقٍ النَّصْرَانِيِّ لِيَبْعَثَ إِلَيْهِ أَثْوَابًا إِلَى الْمَيْسَرَةِ [فَأَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: بَعَثَنِي إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ لِتَبْعَثَ إِلَيْهِ بَأَثْوَابٍ إِلَى الْمَيْسَرَةِ] فَقَالَ: مَا الْمَيْسَرَةُ؟ وَمَتَى الْمَيْسَرَةُ؟. وَاللَّهِ مَا لِمُحَمَّدٍ ثَاغِيَةٌ، وَلَا رَاعِيَةٌ. فَرَجَعْتُ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا رَآنِي قَالَ: " كَذَبَ عَدُوُّ اللَّهِ، أَنَا خَيْرُ مَنْ بَايَعَ. لَأَنْ يَلْبَسَ أَحَدُكُمْ ثَوْبًا مِنْ رِقَاعٍ شَتَّى خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ بِأَمَانَتِهِ [أَوْ فِي أَمَانَتِهِ] مَا لَيْسَ عِنْدَهُ» ". رَوَاهُ أَحْمَدُ.
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک عیسائی گنجے (شاید مالدار شخص مراد ہے) کے پاس بھیجا ، تاکہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ کپڑے دیدے کہ جب گنجائش ہوگی ( تواسے رقم دے دی جائے گی) میں اس شخص کے پاس آیامیں نے کہا اللہ کے رسول نے مجھے تمہاری طرف بھیجا ہے تاکہ تم انہیں کچھ کپڑے دے دو، گنجائش میسر ہونے پر (ان کی قیمت ادا کر دی جائے گی) تو اس نے کہا: گنجائش کیا ہے؟ اور گنجائش کب آئے گی؟ اللہ کی قسم! حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا تو کوئی جانور ہے اور نہ ہی کوئی زمین ہے، میں واپس آیا، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جب آپ نے مجھے ملاحظہ کیا، تو ارشاد فرمایا: اللہ کے دشمن نے غلط کہا ہے میں سب سے بہتر خرید و فروخت کرنے والا ہوں، تم میں سے کوئی ایک شخص چیتھڑوں سے بنا ہوا لباس پہن لے، یہ اُس کے لئے اس سے زیادہ بہتر ہے کہ وہ امانت کو حاصل کرلے (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) ایسی چیز، جو اُس کی نہ ہو۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے۔
اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Sales] › [Chapter of the sale to a term] · Hadith 6617
