مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْعِلْمِ] ‹ بَابُ فِيمَنْ مَسَّ فَرْجَهُ] · حديث 1258
1258 - عَنْ سَيْفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْحِمْيَرَيِّ قَالَ: «دَخَلْتُ أَنَا وَرِجَالٌ مَعِي عَلَى عَائِشَةَ، فَسَأَلْنَاهَا عَنِ الرَّجُلِ يَمْسَحُ فَرْجَهُ، فَقَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: " مَا أُبَالِي إِيَّاهُ مَسِسْتُ أَوْ أَنْفِي» ". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى مِنْ رِوَايَةِ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْيَمَامَةِ عَنْ حُسَيْنِ بْنِ دَفَّاعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَيْفٍ، وَهَؤُلَاءِ مَجْهُولُونَ، وَهُوَ أَقَلُّ مَا يُقَالُ فِيهِمْ.
سیف بن عبداللہ حمیری بیان کرتے ہیں: میں ' کچھ افراد کے ساتھ ' سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا ' ہم نے ان سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا: جو اپنی شرمگاہ پر ہاتھ لگا دیتا ہے ' تو انہوں نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : " میں اس بات کی پرواہ نہیں کرتا کہ میں نے اسے (یعنی شرمگاہ کو) چھولیا ہے' یا اپنی ناک کو (چھو لیا ہے)"۔ یہ روایت امام ابو یعلیٰ نے ' اہل یمامہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے حوالے سے حسین بن دفاع کے حوالے سے ' ان کے والد کے حوالے سے ' سیف سے نقل کی ہے' اور یہ سب لوگ مجہول ہیں' ان کے بارے میں ' کم از کم یہ بات کہی جا سکتی ہے۔
سيف بن عبد الله الحميري
Hadith 1258
