مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [أَبْوَابُ الْعِيدَيْنِ] ‹ [بَابٌ فِي مَوْتِ الْغَرِيبِ] · حديث 3881
3881 - عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَوْتُ الْغَرِيبِ شَهَادَةٌ إِذَا احْتُضِرَ فَرَمَى بِبَصَرِهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ فَلَمْ يَرَ إِلَّا غَرِيبًا وَذَكَرَ أَهْلَهُ وَوَلَدَهُ فَتَنَفَّسَ فَلَهُ بِكُلِّ نَفَسٍ يَتَنَفَّسُهُ يَمْحُو اللَّهُ عَنْهُ أَلْفَيْ أَلْفِ سَيِّئَةٍ وَيَكْتُبُ لَهُ أَلْفَيْ أَلْفِ حَسَنَةٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ الْحُصَيْنِ الْعُقَيْلِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا ہے:’’ غریب الوطنی کی موت شہادت ہوتی ہے جب اس کا آخری وقت آ تا ہے‘ اور وہ نگاہ اٹھا کر دائیں بائیں دیکھتا ہے‘ تو اسے غریب الوطنی دکھائی دیتی ہے وہ اپنے اہل خانہ اوراپنی اولا دکو یادکرتا ہے‘ اور گہرے سانس لیتا ہے‘ تو ہرایک سانس جووہ کھینچتا ہے‘ تو اس کے عوض میں اللہ تعالیٰ اس کی دو ہزار ہزار (یعنی بیس لاکھ ) برائیاں ختم کر دیتا ہے‘ اوراس کے لئے دو ہزار ہزار ( یعنی بیس لا کھ) نیکیاں نوٹ کرتا ہے‘‘ ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن حصین عقیلی ہے‘ اور وہ متروک ہے۔
ابْنِ عَبَّاسٍ،
Hadith 3881
