مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْعِلْمِ] ‹ بَابُ فَضْلِ الْوُضُوءِ] · حديث 1123
1123 - عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " «إِذَا تَمَضْمَضَ أَحَدُكُمْ حُطَّ مَا أَصَابَ بِفِيهِ، وَإِذَا غَسَلَ وَجْهَهُ حُطَّ مَا أَصَابَ بِوَجْهِهِ، وَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ حُطَّ مَا أَصَابَ بِيَدَيْهِ، وَإِذَا مَسَحَ بِرَأْسِهِ تَنَاثَرَتْ خَطَايَاهُ مِنْ أُصُولِ الشَّعْرِ، وَإِذَا غَسَلَ قَدَمَيْهِ حُطَّ مَا أَصَابَ بِرِجْلَيْهِ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. قُلْتُ: وَيَأْتِي حَدِيثُ عُثْمَانَ فِي بَابِ مَا جَاءَ فِي الْوُضُوءِ.
حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشا دفرمایا ہے:"جب کوئی شخص کلی کرتا ہے' تو اسکےمنہ کے گناہ ختم ہو جاتے ہیں ' جب وہ اپنا چہرہدھوتا ہے' تو اسکے وہ گناہ ختم ہو جاتے ہیں' جو اس کے اپنے چہرے کے حوالے سے کئے تھے' جب وہ اپنے باز و دھوتاہے' تو اسکے وہ گناہ ختم ہو جاتے ہیں' جواس کے اپنے ہاتھوں کے ذریعے کئے تھے 'جب وہ اپنے سر کامسح کرتا ہے' تو اس کے بالوں کی جڑوں سے اس کی خطائیں گرجاتی ہیں' اور جب وہ اپنے دونوں پاؤں دھوتا ہے ' تواس کے وہ گناہ ختم ہو جاتےہیں ' جن کا ارتکاب اس نے اپنے پاؤں کے ذریعے کیاتھا۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال "صحیح" کے رجال ہیں۔ علامہ ہیثمی بیان کرتے ہیں میں یہ کہتا ہوں:حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منقول حدیث " وضو کے بارے میں جو کچھ منقول ہے" والے باب میں آئے گی۔
أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ،
Hadith 1123
