مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْبُيُوعِ] ‹ بَابُ بَيْعِ الطَّعَامِ بِالطَّعَامِ] · حديث 6549
6549 - عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُنَاسٌ، فَقَالَ لِبِلَالٍ: " ائْتِنَا بِطَعَامٍ ". فَذَهَبَ بِلَالٌ، فَأَبْدَلَ صَاعَيْنِ مِنْ تَمْرٍ بِصَاعٍ [مِنْ تَمْرٍ] جَيِّدٍ، وَكَانَ تَمْرُهُمْ دُونًا، فَأَعْجَبَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " مِنْ أَيْنَ هَذَا التَّمْرُ؟ " فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ أَبْدَلَ صَاعَيْنِ بِصَاعٍ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " رُدَّ عَلَيْنَا تَمْرَنَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: کچھ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ ہمارے پاس کچھ کھانے کے لئے کچھ لے آؤ! حضرت بلال رضی اللہ عنہ گئے۔ انہوں نے کھجوروں کے دوصاع کے عوض میں عمدہ قسم کی کھجوروں کا ایک صاع لیا ان حضرات کی کھجور یں ہلکی قسم کی تھیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ کھجور یں پسند آئیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا: یہ کھجوریں کہاں سے آئی ہیں؟ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ انہوں نے ایک صاع کے عوض میں دوصاع کھجوریں دی ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہماری کھجور یں ہمارے پاس واپس لے آؤ۔ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور امام احمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
ابْنِ عُمَرَ
Hadith 6549
