مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْعِلْمِ] ‹ بَابُ الْوُضُوءِ بِالْمُشَمَّسِ] · حديث 1072
1072 - «عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: أَسْخَنْتُ مَاءً فِي الشَّمْسِ، فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِيَتَوَضَّأَ بِهِ، فَقَالَ: " لَا تَفْعَلِي يَا عَائِشَةُ ; فَإِنَّهُ يُورِّثُ الْبَيَاضَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ السُّدِّيُّ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ. وَقَالَ - أَيِ الطَّبَرَانِيُّ -: لَا يُرْوَى عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ. قُلْتُ: قَدْ رَوَيْنَاهُ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے دھوپ میں پانی گرم کیا ' میں اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی ' تاکہ آپ اس کے ذریعے وضو کر لیں' تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے عائشہ ! تم ایسا نہ کرو ' کیونکہ اس کے نتیجے میں سفیدی (یعنی برص کا مرض) پیدا ہوتا ہے۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ' اس کی سند میں ایک راوی محمد بن مروان سدی ہے' جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفا ہے' وہ یعنی امام طبرانی فرماتے ہیں: یہ روایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: ہم یہ روایت حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منقول حدیث کے طور پر نقل کر چکے ہیں۔
Hadith 1072
