مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْحَجِّ] ‹ [بَابُ جَوَازِ أَكْلِ اللَّحْمِ لِلْمُحْرِمِ إِذَا لَمْ يَصِدْهُ أَوْ يُصَدْ لَهُ] · حديث 5415
5415 - عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَلَمَةَ الضَّمْرِيِّ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِالْعَرْجِ، فَإِذَا هُوَ بِحِمَارٍ عَقِيرٍ فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَهْزٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا رَمِيَّتِي فَشَأْنُكُمْ بِهَا. فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ فَقَسَّمَهُ بَيْنَ الرِّفَاقِ ثُمَّ سَارَ حَتَّى أَتَى عَقَبَةَ الْأُثَايَةِ، فَإِذَا هُوَ بِظَبْيٍ فِيهِ سَهْمٌ، وَهُوَ حَاقِفٌ فِي ظِلِّ صَخْرَةٍ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالَ: " قِفْ هَاهُنَا حَتَّى يَمُرَّ الرِّفَاقُ لَا يَرْمِيهِ أَحَدٌ بِشَيْءٍ». قُلْتُ: ذَكَرَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ لِعُمَيْرٍ تَرْجَمَةً، وَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ حَدِيثِهِ نَفْسِهِ فَلِذَلِكَ ذَكَرْتُهُ، وَقَدْ رَوَاهُ النَّسَائِيُّ عَنْ عُمَيْرٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَهْزٍ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
حضرت عمیر بن سلمہ ضمریؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ کا گزر’’عرج‘‘کے مقام سے ہواوہاں ایک زخمی گدھا موجودتھا تھوڑی دیر کے بعد بہز قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آیا اور عرض کی : یارسول اللہ ! یہ میرے نشانے سے زخمی ہوا ہے آپ لوگ اسے استعمال کر یں نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابوبکرؓ کوحکم دیا انہوں نے اپنے ساتھیوں کے درمیان اسے تقسیم کر دیا پھر نبی اکرم ﷺ روانہ ہوئے یہاں تک کہ ’’اثا یہ‘‘ کی گھاٹی میں آئے تو وہاں ایک ہرن موجودتھا جسے تیرلگا ہو اتھا اوروہ چٹان کے سائے میں بیٹھا ہواتھا نبی اکرم ﷺنے اپنے اصحاب میں سے ایک شخص کوحکم دیا اور ارشادفرمایا: تم یہاں ٹھہرے رہو یہاں تک کہ تمام قافلے والے یہاں سے گز رجائیں کوئی شخص اسے کوئی چیز نہ مارے۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں: )میں یہ کہتا ہوں: امام احمد نے حضرت عمیر ؓ کے حالات ذکر کیے ہیں اوران کی نقل کر دہ احادیث میں سے یہی حدیث نقل کی ہے‘ جو میں نے اس لئے یہاں ذکر کر دی ہے یہ روایت امام نسائی نے عمیر کے حوالے سےبہز قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص سے نقل کی ہے۔ امام احمد کے رجال’’صحیح‘‘ کے رجال ہیں۔
عُمَيْرِ بْنِ سَلَمَةَ الضَّمْرِيِّ،
Hadith 5415
