مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْحَجِّ] ‹ بَابُ الْمُرَافَقَةِ فِي السَّفَرِ] · حديث 5308
5308 - «عَنْ أَسْلَمَ قَالَ: خَرَجْتُ فِي سَفَرٍ فَلَمَّا رَجَعْتُ قَالَ لِي عُمَرُ: مَنْ صَحِبْتَ؟ قُلْتُ: صَحِبْتُ رَجُلًا مِنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ. فَقَالَ عُمَرُ: أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَخُوكَ الْبَكْرِيُّ وَلَا تَأْمَنْهُ "؟». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ طَرِيقِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ.
اسلم بیان کرتے ہیں : میں ایک سفر میں نکلا جب میں واپس آیا تو حضرت عمرؓ نے دریافت کیا : تم کس کے ساتھ تھے؟ میں نے کہا: میں بکر بن وائل قبیلے کے ایک شخص کے پاس تھا حضرت عمر ؓ نے فرمایا: کیاتم نے نبی اکرم ﷺکو یہ ارشادفرماتے ہوئےنہیں سناہے: ’’تمہارابھائی بکری ( یعنی جوبکر قبیلےسےتعلق رکھتاہے)اورتم اس سےمحفوظ نہیں ہو‘‘۔یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں زید بن عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم کے حوالے سے ان کے والد سے نقل کی ہے اور وہ دونوں ضعیف ہیں۔
أَسْلَمُ
Hadith 5308
