مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الزَّكَاةِ] ‹ [بَابُ زَكَاةِ الْحُلِيِّ] · حديث 4354
4354 - عَنْ عَمْرِو بْنِ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ الثَّقَفِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: «أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ عَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ عَظِيمٍ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتُزَكِّي هَذَا؟ ". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا زَكَاةُ هَذَا؟ قَالَ: " جَمْرَةٌ عَظِيمَةٌ عَلَيْهِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ إِلَّا أَنَّ لَفْظَهُ «عَنْ يَعْلَى قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي يَدِي خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ» - فَذَكَرَ نَحْوَهُ. وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ يَعْلَى، وَلَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ أَبِيهِ.
عمرو بن یعلیٰ بن مرہ ثقفی، اپنے والد کے حوالے سے، اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے سونے کی بڑی انگوٹھی پہنی ہوئی تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم نے اس کی زکوٰۃ ادا کی ہے؟اس نے عرض کی: یا رسول الله! اس کی زکوٰة کیا ہوگی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: اس پر ایک بڑا انگارہ ہوگا۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، تاہم ان کے الفاظ یہ ہیں: حضرت یعلیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میرے ہاتھ میں سونے کی انگوٹی تھی ...... اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن یعلیٰ ہے، اس سے اس کے باپ کے علاوہ اور کسی نے روایت نقل نہیں کی ہے۔
لَهُ النَّبِيُّ أَتُزَكِّي هَذَا ← أتى النبي رجل عليه خاتم من ذهب عظيم ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ الثَّقَفِيِّ،
Hadith 4354
