مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الزَّكَاةِ] ‹ بَابُ الصَّدَقَةِ الْمُجْحِفَةِ] · حديث 4717
4717 - عَنْ حَنْظَلَةَ قَالَ: «قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فِي حِجْرِي يَتِيمًا، وَقَدْ تَصَدَّقْتُ عَلَيْهِ بِمِائَةٍ مِنَ الْإِبِلِ ; فَرَأَيْنَا الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ وَقَالَ: " إِنَّمَا الصَّدَقَةُ خَمْسٌ، وَإِلَّا فَعَشْرٌ، وَإِلَّا فَخَمْسَ عَشْرَةَ ". حَتَّى بَلَغَ الْأَرْبَعِينَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، قُلْتُ: رَوَاهُ أَحْمَدُ أَطْوَلَ مِنْ هَذَا بِكَثِيرٍ، وَأَنَّهَا كَانَتْ وَصِيَّةٌ، وَلَمْ تُجِزْهَا الْوَرَثَةُ - وَيَأْتِي فِي الْوَصَايَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ - وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے ز یر پرورش ایک یتیم لڑکا ہے میں نے اسے ایک سواونٹ صدقہ کر دیے ہیں راوی کہتے ہیں: تو ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر غضب کے آثار دیکھے آپ نے ارشادفرمایا: صدقے میں پانچ اونٹ دیے جاتے ہیں دسں دیےجاتے ہیں پندرہ دیے جاتے ہیں یہاں تک کہ آپ نے چالیس تک کا ذکر کیا۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: امام احمد نے اس سے زیادہ طویل روایت کے طور پرنقل کیا ہے یہ وصیت سے متعلق ہے کہ وصیت کو ورثاء سے آگے نہیں جانا چاہیے یہ روایت وصیت سے متعلق باب میں آگے آئے گی، اگر اللہ نے چاہا اور اس کی سند حسن ہے۔
قُلْتُ ← حَنْظَلَةُ،
Hadith 4717
