مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصِّيَامِ] ‹ بَابٌ] · حديث 4852
4852 - عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: «دَخَلَ عَلْقَمَةُ بْنُ عُلَاثَةَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا لَهُ بِرَأْسٍ، وَجَعَلَ يَأْكُلُ مَعَهُ فَجَاءَ بِلَالٌ فَدَعَا إِلَى الصَّلَاةِ، فَلَمْ يُجَبْ فَرَجَعَ، فَمَكَثَ فِي الْمَسْجِدِ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ: الصَّلَاةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ وَاللَّهِ أَصْبَحْتَ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَحِمَ اللَّهُ بِلَالًا ; لَوْلَا بِلَالٌ لَرَجَوْنَا أَنْ يُؤَخَّرَ لَنَا مَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ طُلُوعِ الشَّمْسِ ". فَقَالَ عَلِيٌّ: لَوْلَا أَنَّ بِلَالًا حَلَفَ لَأَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يَقُولَ لَهُ جِبْرِيلُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ارْفَعْ يَدَكَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ سَوَّارُ بْنُ مُصْعَبٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: علقمہ بن علاثہ نبی اکرم صلى الله عليہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے کھانا منگوایا اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھانا شروع کیا اسی دوران بلال آئے اور اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے لئے بلایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہیں دیا تو وہ واپس چلا گیا وہ مسجد میں اتنی دیر ٹھہرارہا جتنی دیر اللہ کومنظور تھا پھر وہ واپس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! نماز کا وقت ہو گیا ہے اللہ کی قسم صبح ہوچکی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: اللہ تعالیٰ بلال پر رحم کرے اگر بلال نہ ہوتا تو ہمیں یہ توقع تھی کہ ہمارے لئے اتنی تاخیر ہو جاتی جو ہمارے اس وقت اور سورج طلوع ہونے کے درمیان ہوتی ہے‘‘۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر بلال نے حلف نہ اٹھایا ہوتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھانا کھاتے رہتے یہاں تک کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ سے یہ کہتے کہ آپ ہاتھ اٹھالیں۔ یہ روایت امام بزارنے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی سوار بن مصعب ہے، اور وہ ضعیف ہے۔
عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ
Hadith 4852
