مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّلَاةِ] ‹ بَابُ إِذَا كَانَ إِمَامٌ وَمَأْمُومٌ] · حديث 2529
2529 - عَنْ جَابِرِ بْنِ صَخْرٍ أَحَدِ بَنِي سَلِمَةَ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ بِطَرِيقِ مَكَّةَ: " مَنْ يَسْبِقُنَا إِلَى الْأُثَايَةِ " قَالَ أَبُو أُوَيْسٍ: وَهُوَ حَيْثُ نَفَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - " فَيَمْدُرُ حَوْضَهَا وَيَفْرِطُ فِيهِ فَيَمْلَأُهُ حَتَّى نَأْتِيَهُ؟ " قَالَ جَبَارٌ: فَقُمْتُ فَقُلْتُ: أَنَا قَالَ: " اذْهَبْ " فَذَهَبْتُ فَأَتَيْتُ الْأُثَايَةَ فَمَدَرْتُ وَفَرَّطْتُ فِيهِ فَمَلَأْتُهُ ثُمَّ غَلَبَتْنِي عَيْنَايَ فَنِمْتُ فَمَا انْتَبَهْتُ إِلَّا بِرَجُلٍ تُنَازِعُهُ رَاحِلَتُهُ إِلَى الْمَاءِ وَيَكُفُّهَا عَنْهُ فَقَالَ: يَا صَاحِبَ الْحَوْضِ أَوْرِدْ حَوْضَكَ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: فَأَوْرَدَ رَاحِلَتَهُ ثُمَّ انْصَرَفَ فَأَنَاخَ ثُمَّ قَالَ: " اتَّبِعْنِي بِالْإِدَاوَةِ " فَتَبِعْتُهُ بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ وُضَوْءَهُ وَتَوَضَّأْتُ مَعَهُ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَ بِيَدِي فَحَوَّلَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَصَلَّيْنَا فَلَمْ نَنْشَبْ أَنْ جَاءَنَا النَّاسُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ - وَرَوَى الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ هَذَا كُلِّهِ: «صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ» - وَفِيهِ شُرَحْبِيلُ بْنُ سَعْدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.
حضرت جابر بن صخر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جن کو تعلق بنو سلمہ سے ہے وہ بیان کرتے ہیں: مکہ کے راستے میں نبی اکرم صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کون شخص ہم سے پہلے "اثایہ " تک پہنچ جائے گا ابو اویس نامی راوی بیان کرتے ہیں: یہ اس وقت کی بات ہے، جب نبی اکرم صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں بھجوایا تھا(آپ نے فرمایا:) ہو وہاں کے حوض کو درست کر دے گا، اور اس میں پانی بھر لے گا یہاں تک کہ ہم وہاں تک پہنچ جائیں گے حضرت جبار رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اٹھا اور میں نے عرض کی: میں ایسا کروں گا نبی اکرم صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم جاؤ میں روانہ ہو میں "اثا یہ " آیا میں نے وہاں اینٹیں لگائیں اور اسے تیار کر کے پانی کے ساتھ بھر دیا پھر میری آنکھ لگ گئی اور میں سو گیا پھر میری آنکھ ایک شخص کی وجہ سے کھلی جو اپنی اونٹنی کو پانی کے پاس آنے سے روک رہا تھا وہ پانی کی طرف آ رہی تھی اور وہ شخص اسے روک رہا تھا اس شخص نے کہا: اے حوض والے شخص تم اپنے حوض پر آ جاؤ وہ نبی اکرم صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم تھے۔ میں نے کہا ٹھیک ہے پھر آپ صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم نے اپنی سواری کو موڑا اور اسے بٹھا دیا پھر آپ صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس پانی کا برتن لے آؤ میں پانی لے کے گیا ُ صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم نے وضو کیا اور اچھی طریقے سے وضو کیا اس کے ساتھ میں نے بھی وضو کیا۔ پھر آپ نے اٹھ کر نماز ادا کی میں آپ کی بائیں طرف کھڑا ہوا تا آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے گھما کر اپنی دائیں طرف کر دیا پھر ہم نے نماز ادا کی تھوڑی ہی دیر کے بعد لوگ ہمارے پاس آ گئے۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے، امام طبرانی نے معجم کبیر میں یہ پوری روایت نقل کی ہے: میں نے نبی اکرم صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کی تو آپ نے مجھے اپنے دائیں طرف کھڑا کیا اس روایت کی سند میں ایک راوی شرجیل بن سعد ہے، اور وہ "ضعیف "ہے۔
جَابِرِ بْنِ صَخْرٍ أَحَدِ بَنِي سَلِمَةَ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [prayer book] › Chapter if he is an imam and an imam) · Hadith 2529
