مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْحَجِّ] ‹ باب · حديث 5434
5434 - وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ أَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ طَالَمَا أَضْلَلْتَ النَّاسَ! قَالَ: وَمَا ذَاكَ يَا عُرَيَّةُ؟ قَالَ: الرَّجُلُ يَخْرُجُ مُحْرِمًا بِحَجٍّ أَوْ بِعُمْرَةٍ، فَإِذَا طَافَ زَعَمْتَ أَنَّهُ قَدْ حَلَّ فَقَدْ كَانَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ يَنْهَيَانِ عَنْ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: أَهُمَا - وَيْحَكَ - آثَرُ عِنْدَكَ أَمْ مَا فِي كِتَابِ اللَّهِ، وَمَا سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَصْحَابِهِ، وَفِي أُمَّتِهِ؟ فَقَالَ عُرْوَةُ: هُمَا كَانَا أَعْلَمَ بِكِتَابِ اللَّهِ، وَمَا سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِّي وَمِنْكَ، قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ: فَخَصَمَهُ عُرْوَةُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں: وہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے کہا: اے حضرت ابن عباس! آپ کتنے عرصے سے لوگوں کوغلط فہمی کا شکار کر رہے ہیں؟ حضرت عبداللہ بن عباس ؓنے فرمایا: اے عریہ !کیا ہوا ہے؟ انہوں نے کہا: ایک شخص حج اور عمرے کا احرام باندھ کر نکلتا ہے‘ جب وہ طواف کر لیتا ہے ‘تو آپ کا یہ کہنا ہے کہ وہ احرام کھول سکتا ہے‘ حالانکہ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ اس چیز سے منع کیا کرتے تھے حضرت عبداللہ بن عباس ؓنے فرمایا: تمہاراستیا ناس ہو۔ تمہارے نزدیک یہ دونوں قابل ترجیح ہیں‘ یا وہ چیز قابل ترجیح ہے‘ جواللہ کی کتاب میں ہو ‘یا جسے اللہ کے رسول نے اپنے اصحاب کے بارے میں اوراپنی امت کے بارے میں سنت کے طور پر مقرر کیا ہو؟ عروہ نے کہا: یہ دونوں حضرات اللہ کی کتاب کا زیادہ علم رکھتے تھے‘ اور نبی اکرم ﷺکی سنت کا بھی مجھ سے اور آپ سے زیادہ علم رکھتے تھے ۔ ابن ابوملیکہ کہتے ہیں: تو یوں عروہ نے ان سے اختلاف کیا۔یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے‘ اور اس کی سند حسن ہے۔
عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Pilgrimage] › Chapter · Hadith 5434
