مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْحَجِّ] ‹ بَابُ التَّهْنِئَةِ بِتَمَامِ الْحَجِّ] · حديث 5612
5612 - عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسٍ قَالَ: «أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى فَقَالَ: " أَفْرِخْ رَوْعَكَ يَا عُرْوَةُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ هَكَذَا، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ، تَقَدَّمَ فِيمَنْ أَدْرَكَ عَرَفَاتٍ. قَالَ صَاحِبُ النِّهَايَةِ مَا مَعْنَاهُ: أَفْرَخَ رَوْعُكَ: إِذَا ذَهَبَ عَنْكَ الْحُزْنُ. وَفِيهِ دَاوُدُ بْنُ يَزِيدَ الْأَوْدِيُّ قَالَ ابْنُ عَدِيٍّ: لَمْ أَرَ لَهُ حَدِيثًا مُنْكَرًا جَاوَزَ الْحَدَّ إِذَا رَوَى عَنْهُ ثِقَةٌ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ.
حضرت عروہ بن مضرس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں منی ٰمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے ارشاد فرمایا: ’’ اے عروہ ! تم اپنی پریشانی ختم کرو‘‘ ۔ یہ روایت امام بزار نے اسی طرح نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اسے ایک طویل حدیث میں ذکر کیا ہے‘ جو عرفات پہنچنے والے شخص سے متعلق پہلے باب میں گزر چکی ہے۔ کتاب النہایہ کے مصنف نے یہ بات بیان کی ہے کہ اس کا مطلب کیا ہے؟ وہ کہتے ہیں : افرخ روعک کا مطلب یہ ہے کہ جب تم سے غم رخصت ہو جائے۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی داؤد بن یزید اودی ہے ابن عدی کہتے ہیں : میں نے اس کے حوالے سے کوئی منکر حدیث نہیں دیکھی ہے جو حد سے تجاوز کر جائے جبکہ کسی ثقہ شخص نے اس سے روایت نقل کی ہوایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
«أَتَيْتُ النَّبِيَّ بِمِنًى ← عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسٍ
Hadith 5612
