مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ] ‹ [بَابُ مَا يَنْبَغِي مِنَ اللُّبْسِ وَغَيْرِهِ فِي الْعِيدِ] · حديث 5961
5961 - عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: «أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ نَلْبِسَ أَجْوَدَ مَا نَجِدُ، وَأَنْ نَتَطَيَّبَ بِأَجْوَدِ مَا نَجِدُ، وَأَنْ نُضَحِّيَ بِأَسْمَنِ مَا نَجِدُ. الْبَقَرَةُ عَنْ سَبْعَةٍ، وَالْجَزُورُ عَنْ عَشَرَةٍ، وَأَنْ نَظْهَرَ وَعَلَيْنَا السَّكِينَةُ وَالْوَقَارُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنِ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ: ثِقَةٌ مَأْمُونٌ. وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ، وَجَمَاعَةٌ.
حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ حکم دیا تھا کہ ہم ( عید کے موقع پر ) سب سے بہتر دستیاب لباس پہنیں اور سب سے بہتر دستیاب خوشبو لگائیں اور سب سے بہتر موٹا تازہ دستیاب جانور قربان کریں ایک گائے سات افراد کی طرف سے ہوگی ایک اونٹ دس افراد کی طرف سے ہوگا اور جب ہم آئیں تو سکینت اور وقار کے ساتھ چلتے ہوئے آئیں۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے عبدالملک بن شعیب بن لیث کہتے ہیں: وہ ثقہ اور مامون ہے امام احمد اور ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔
أمرنا رسول الله ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ
Hadith 5961
