مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْحَجِّ] ‹ بَابٌ فِيمَنْ يَمُوتُ بِالْمَدِينَةِ] · حديث 5820
5820 - عَنْ سُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " «مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَمُوتَ بِالْمَدِينَةِ فَلْيَمُتْ، فَإِنَّهُ لَا يَمُوتُ بِهَا أَحَدٌ إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِكْرِمَةَ، وَقَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، وَرَوَى عَنْهُ جَمَاعَةٌ، وَلَمْ يَتَكَلَّمْ فِيهِ أَحَدٌ بِسُوءٍ.
سیّدہ سبعیہ اسلمیہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”تم میں سے جو شخص یہ استطاعت رکھتا ہو کہ وہ مدینہ میں انتقال کرے تو اسے ( مدینہ میں ) مرنا چاہیے کیونکہ جو بھی شخص یہاں مرے گا تو قیامت کے دن میں اس کا شفاعت کرنے والا ( راوی کوشک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) اس کا گواہ ہوؤں گا‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نےمعجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عبداللہ بن عکرمہ کا معاملہ مختلف ہے ابن ابوحاتم نے اس کا ذکر کیا ہے ایک جماعت نے اس سے روایت نقل کی ہے کسی نے اس کے بارے میں برائی کے حوالے سے کلام نہیں کیا ہے۔
سبيعة الأسلمية
Hadith 5820
