مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّلَاةِ] ‹ بَابٌ فِي سُنَّةِ الْجُمُعَةِ] · حديث 3188
3188 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «أَوْصَانِي خَلِيلِي - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِثَلَاثٍ لَا أَدَعُهُنَّ فِي سِفْرٍ وَلَا حَضَرٍ؛ نَوْمٍ عَلَى وَتْرٍ، وَصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْجُمُعَةِ، ثُمَّ إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ جَعَلَ بَعْدَ رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتِي الضُّحَى» قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهُ: وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: میرے خلیل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے تین باتوں کی تلقین کی تھی: میں سفر یا حضر کے دوران میں انہیں کبھی ترک نہیں کروں گا' وتر ادا کرنے کے بعد سونا ' ہر مہینے میں تین دن روزے رکھنا ' اور جمعہ کے بعد دو رکعات ادا کرنا ۔ پھر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جمعہ کے بعد دو رکعات کےبعد چاشت کی دو رکعات بھی شامل کر لیں۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں: ) میں یہ کہتا ہوں: یہ روایت "صحیح" میں منقول ہے ' تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں:" جمعہ کے بعد کی دورکعات"۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ' اوراس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔
أَبِي هُرَيْرَةَ،
Hadith 3188
