مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ] · حديث 147
147 - «عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: جِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالْعَبَّاسُ جَالِسٌ عَنْ يَمِينِهِ، وَفَاطِمَةُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - عَنْ يَسَارِهِ، فَقَالَ: " يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اعْمَلِي لِلَّهِ خَيْرًا ; فَإِنِّي لَا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ". قَالَ - يَعْنِي ذَلِكَ - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. قَالَ: " يَا عَبَّاسُ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، يَا عَمَّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اعْمَلْ لِلَّهِ خَيْرًا ; فَإِنِّي لَا أُغْنِي عَنْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا " ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ: " يَا حُذَيْفَةُ، ادْنُ " فَدَنَوْتُ، ثُمَّ قَالَ: " يَا حُذَيْفَةُ، ادْنُ " فَدَنَوْتُ، ثُمَّ قَالَ: " يَا حُذَيْفَةُ، مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، وَآمَنَ بِمَا جِئْتُ بِهِ ; حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ النَّارَ، وَوَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ ". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُسِرُّ هَذَا أَوْ أُعْلِنُهُ؟ قَالَ: " أَعْلِنْهُ» ". رَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ رِوَايَةِ قَطَرِيٍّ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حُذَيْفَةَ، وَقَالَ الْبَزَّارُ: لَا نَعْلَمُهُ إِلَّا فِي هَذَا الْحَدِيثِ، وَقَطَرِيٌّ لَمْ أَعْرِفْهُ.
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس وقت حضرت عباس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دائیں طرف اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بائیں طرف تشریف فرما تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے محمد کی صاحبزادی فاطمہ ! تم اللہ تعالیٰ کے لیے بھلائی کا عمل کرو، کیونکہ میں قیامت کے دن ، اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تمہارے کسی کا م نہیں آ سکتا ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی ، آپ نے فرمایا: اے جناب عبدالمطلب کے صاحبزادے ! جناب عباس ! اے اللہ کے رسول کے چچا ! آپ اللہ تعالیٰ کے لیے بھلائی کا عمل کریں ، کیونکہ قیامت کے دن میں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں آپ کے کسی کام نہیں آ سکتا ، یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے حذیفہ ! قریب ہو جاؤ! میں قریب ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے حذیفہ قریب ہو جاؤ! میں قریب ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے حذیفہ ! جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، اور میں اللہ کا رسول ہوں ، اور وہ شخص اس بات پر ایمان رکھے ، جو میں لے کر آیا ہوں، تو اللہ تعالیٰ اس پر آگ کو حرام کرد ے گا، اور اس شخص کے لیے جنت واجب ہو جائے گی ، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میں اس بات کو پوشیدہ رکھو ں ؟ یا اس کا اعلان کر دوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس کا اعلان کر دو! یہ روایت امام بزار نے قطری نامی راوی کے حوالے سے سماک بن حذیفہ سے نقل کی ہے۔ امام بزار فرماتے ہیں کہ ہمیں اس راوی ( یعنی سماک بن حذیفہ ) کا علم ، صرف اسی روایت کے حوالے سے ہے ، اور قطری نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حُذَيْفَةَ
Hadith 147
