مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ 1 - 1 - (بَابٌ فِيمَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ). · حديث 1
1 - وَبِسَنَدِ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَنْبَأَ شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ أَهْلِ الْفِقْهِ أَنَّهُ «سَمِعَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ - رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ - يُحَدِّثُ أَنَّ رِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ تُوُفِّيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَزِنُوا عَلَيْهِ حَتَّى كَادَ بَعْضُهُمْ يُوَسْوَسُ، قَالَ عُثْمَانُ: وَكُنْتُ مِنْهُمْ، فَبَيْنَا أَنَا جَالِسٌ فِي ظِلِّ أُطُمٍ مَنَ الْآطَامِ مَرَّ عَلَيَّ عُمَرُ - رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ - فَسَلَّمَ عَلَيَّ فَلَمْ أَشْعُرْ أَنَّهُ مَرَّ وَلَا سَلَّمَ، فَانْطَلَقَ عُمَرُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ - رَحِمَهُ اللَّهُ - فَقَالَ لَهُ: مَا يُعْجِبُكَ أَنِّي مَرَرْتُ عَلَى عُثْمَانَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ السَّلَامَ! وَأَقْبَلَ هُوَ وَأَبُو بَكْرٍ - فِي وِلَايَةِ أَبِي بَكْرٍ - رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ - حَتَّى سَلَّمَا جَمِيعًا، ثُمَّ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: جَاءَنِي أَخُوكَ عُمَرُ، فَذَكَرَ أَنَّهُ مَرَّ فَسَلَّمَ عَلَيْكَ فَلَمْ تَرُدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ، فَمَا الَّذِي حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: مَا فَعَلْتُ، فَقَالَ عُمَرُ: بَلَى، وَاللَّهِ قَدْ فَعَلْتَ، وَلَكِنَّهَا عُبِّيَّتُكُمْ يَا بَنِي أُمَيَّةَ. قَالَ: قُلْتُ وَاللَّهِ مَا شَعَرْتُ أَنَّكَ مَرَرْتَ وَلَا سَلَّمْتَ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: صَدَقَ عُثْمَانُ. وَقَدْ شَغَلَكَ عَنْ ذَلِكَ أَمْرٌ. فَقُلْتُ: أَجَلْ. قَالَ: وَمَا هُوَ؟ قَالَ عُثْمَانُ - رَحِمَهُ اللَّهُ -: تَوَفَّى اللَّهُ نَبِيَّهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَبْلَ أَنْ أَسْأَلَهُ عَنْ نَجَاةِ هَذَا الْأَمْرِ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَدْ سَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ. قَالَ: فَقُمْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ لَهُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، أَنْتَ أَحَقُّ بِهَا. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا نَجَاةُ هَذَا الْأَمْرِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " مَنْ قَبِلَ مِنِّي الْكَلِمَةَ الَّتِي عَرَضْتُ عَلَى عَمِّي فَرَدَّهَا عَلَيَّ فَهِيَ لَهُ نَجَاةٌ» ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ، وَأَبُو يَعْلَى بِتَمَامِهِ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ وَلَكِنَّ الزُّهْرِيَّ وَثَّقَهُ وَأَبْهَمَهُ، وَقَدْ ذَكَرْتُهُ بِسَنَدِهِ حَتَّى لَا أَبْتَدِئَ الْكِتَابَ بِسَنَدٍ مُنْقَطِعٍ.
۱-امام احمد نے اپنی سند کے ساتھ زہری کا یہ بیان نقل کیا ہے : انصار سے تعلق رکھنے والے ایک اہل علم نے مجھے یہ بات بتائی : اس نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو ہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے: " جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہوا، تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اس حوالے سے ( شدید) غم محسوس ہوا، یہاں تک کہ ان میں سے بعض حضرات وسوسے کا شکار ہو جاتے تھے، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں بھی ان افراد میں سے ایک تھا، ایک مرتبہ میں ایک عمار ت کے سائے میں بیٹھا ہوا تھا ، اس دوران حضرت عمر رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گزرے اور انہوں نے مجھے سلام بھی کیا، لیکن مجھے پتہ نہیں چلا کہ وہ گزرے ہیں یا انہوں نے سلام کیا ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ چلے گئے ، وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان سے کہا: کیا آپ اور ان سے کہا : کیا آپ اس بات پر حیران نہیں ہوں گے ؟ کہ میں عثمان کے پاس سے گزرا ، میں نے اسے سلام کیا، لیکن اس نے مجھے سلام کا جواب نہیں دیا پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے ، یہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت کی بات ، ان دونوں حضرات نے مجھے سلام کیا، پھر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : آپ کے بھائی عمر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور انہوں نے یہ بات ذکر کی کہ وہ ( آپ کے پاس سے ) گزرے ، اور انہوں نے آپ کو سلام کیا، لیکن آپ نے انہیں جواب نہیں دیا، آپ نے ایسا کیوں کیا؟ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا : میں نے تو ایسا نہیں کیا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ بولے : جی ہاں ! اللہ کی قسم ! آپ نے ایسا کیا ہے ، اے بنو امیہ ! یہ آپ لوگوں کی خود پسندی ہے، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے کہا: اللہ کی قسم ! مجھے تو یہ پتا ہی نہیں چلا کہ آپ گزرے ہیں ، یا آپ نے سلام کیا ہے، حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عثمان ٹھیک کہہ رہا ہے ، یہ کسی پریشانی کی وجہ سے تمہاری طرف متوجہ نہیں ہوا ہو گا، میں نے کہا: جی ہاں ! حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: وہ کیا معاملہ ہے؟ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بولے : اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وفات دے دی ، اس سے پہلے کہ میں ان سے اس معاملے کی نجات کے بارے میں دریافت کرتا، تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا تھا( حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ) میں اٹھ کر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، اور میں نے ان سے کہا : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ اس بات کے زیادہ حق دار ہیں ، تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بتایا : ( ایک مرتبہ) میں نے عرض کی : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اس معاملے کی نجات کیا ہے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: " جو شخص مجھ سے وہ کلمہ قبول کر لے ، جو میں نے اپنے چچا کو پیش کیا تھا اور انہوں نے اسے قبول نہیں کیا تھا، تو وہ کلمہ اس شخص کے لئے نجات کا باعث بن جائے گا" یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے، جبکہ امام ابو یعلی ٰ نے اسے مکمل روایت کے طور پر نقل کیا ہے، امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے، اس میں ایک راوی ایسا ہے، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ، تاہم امام زہری نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور اسے " مبہم " رکھا ہے۔ میں نے اس کی سند اسی لئے بیان کر دی ہے ، تاکہ میں کتاب کا آغاز کسی " منقطع " سند کے ساتھ نہ کروں۔
الزُّهْرِيِّ، ← أبو اليمان أنبا شعيب ← وَبِسَنَدِ أَحْمَدَ
Hadith 1
