مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الزَّكَاةِ] ‹ بَابُ الْخَرْصِ] · حديث 4400
4400 - عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ وَهِيَ تَذْكُرُ شَأْنَ خَيْبَرَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُ ابْنَ رَوَاحَةَ إِلَى الْيَهُودِ، فَيَخْرُصُ عَلَيْهِمُ النَّخْلَ حِينَ يَطِيبُ قَبْلَ أَنْ يُؤْكَلَ مِنْهُ، ثُمَّ يُخَيِّرُونَ الْيَهُودَ أَنْ يَأْخُذُوهُ بِذَلِكَ الْخَرْصِ أَمْ يَدْفَعُوهُ إِلَيْهِمْ بِذَلِكَ، وَإِنَّمَا أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْخَرْصِ لِكَيْ لَا تُحْصَى الزَّكَاةُ قَبْلَ أَنْ تُؤْخَذَ الثَّمَرَةُ وَتُفَرَّقَ». قُلْتُ: رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ ذَكَرَ الزَّكَاةَ وَغَيْرَهَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي رِوَايَةٍ: عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، وَفِي رِوَايَةٍ: عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أُخْبِرْتُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ.
سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ خبیر کے بارے میں ذکر کرتے ہوئے ،یہ بات بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کو یہودیوں کی طرف بھیجا، وہ ان کی کھجوروں کی پیداوار کا اندازہ لگاتے تھے ،یہ اس سے پہلے کی بات ہوتی تھی کہ جب کھجوریں کھائے جانے کے قابل ہو جاتیں، اس کے بعد وہ یہودیوں کو اختیار دیتے تھے، کہ اگر وہ چاہیں تو اس انداز ے مطابق پیداوار وصول کریں یا پھر اتنی پیداوار ان کے حوالے کر دیں ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیداوار کا اندازہ ( پہلے ) لگانے کا حکم اس لئے دیا تھا، تا کہ پھل اتارے جانے اور منتشر ہونے سے پہلے زکوٰة کو شمار کیا جا سکے۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں: )میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے جس میں زکوٰ ة اور دیگر چیزوں کا ذکر کیا ہے۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے، اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، امام احمد کے رجال ’’صحیح‘‘کے رجال ہیں، البتہ انہوں نے ایک روایت میں یہ کہا ہے:یہ ابن جریج کے حوالے سے ابن شہاب سے منقول ہے، اور ایک روایت میں یہ کہا ہے: ابن جریج کہتے ہیں : مجھے ابن شہاب کے حوالے سے یہ بات بیان کی گئی ہے۔
عَائِشَةَ
Hadith 4400
