مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ] ‹ [بَابُ تَفْرِقَةِ الضَّحَايَا] · حديث 5950
5950 - «عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ الْمَنْحَرِ هُوَ وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ضَحَايَا فَلَمْ يُصِبْهُ، وَلَا صَاحِبَهُ شَيْءٌ، وَحَلَقَ رَأَسَهُ فِي ثَوْبِهِ وَأَعْطَى فَقَسَّمَ مِنْهُ عَلَى رِجَالٍ وَقَلَّمَ أَظْفَارَهُ فَأَعْطَى صَاحِبَهُ مِنْ شَعْرِهِ، فَإِنَّهُ عِنْدَنَا لَمَخْضُوبٌ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ».
حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: قربانی کی جگہ پر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے وہ تھے اور ساتھ میں انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے جانور تقسیم کیے تو ان صاحب کو اور ان کے ساتھی کو کچھ نہیں ملا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کپڑے میں سر کے بال مونڈوا کر رکھوا دیے پھر وہ دیدیے اور آپ نے وہ کچھ لوگوں میں تقسیم کر وا دیے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ناخن تراشے تو ان کے ساتھی کوبھی اپنے بال دیے راوی کہتے ہیں : وہ بال ہمارے پاس موجود تھے ان پر مہندی اور کتم ( نام کی بوٹی ) کا خضاب لگا ہوا تھا۔
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Adahi Book] › Chapter: Separating Victims · Hadith 5950
