مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّلَاةِ] ‹ بَابُ مَشْرُوعِيَّةِ الْأَذَانِ] · حديث 1865
1865 - عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " «إِنَّمَا جُعِلَ الْأَذَانُ الْأَوَّلُ لِيَتَيَسَّرَ أَهْلُ الصَّلَاةِ لِصَلَاتِهِمْ، فَإِذَا سَمِعْتُمُ الْأَذَانَ فَأَسْبِغُوا الْوُضُوءَ، وَإِذَا سَمِعْتُمُ الْإِقَامَةَ فَبَادِرُوا التَّكْبِيرَةَ الْأُولَى ; فَإِنَّهَا فَرْعُ الصَّلَاةِ وَتَمَامُهَا، وَلَا تُبَادِرُوا الْقَارِئَ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ جَبَلَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ.
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : " اذان کو پہلے اس لئے مقرر کیا گیا تھا تاکہ نماز پڑھنے والوں کے لئے نماز پڑھنے میں سہولت ہو جب تم اذان کی آواز سنو تو اچھی طرح وضو کرو اور جب تم اقامت سنو تو جلدی سے پہلی تکبیر میں شامل ہونے کی کوشش کرو کیونکہ وہ نماز کا حصہ ہے ، اور اس کی تکمیل کا حصہ ہے ، اور تم رکوع یا سجدہ کرتے ہوئے امام سے آگے نکلنے کی کوشش نہ کرو"۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جبلہ بن سلیمان ہے، جسے یحییٰ بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
ابْنِ عَبَّاسٍ،
Hadith 1865
