مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّلَاةِ] ‹ بَابٌ فِيمَنِ اشْتَغَلَ بِالسَّبَبِ عَنِ الصَّلَاةِ فِي الْجَمَاعَةِ] · حديث 2197
2197 - وَعَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ: «كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَامَ عُرْفُطَةُ بْنُ نَهْيَكٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي وَأَهْلَ بَيْتِي مَرْزُوقُونَ مِنْ هَذَا الصَّيْدِ وَلَنَا فِيهِ قَسْمٌ وَبَرَكَةٌ، وَهُوَ مَشْغَلَةٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَعَنِ الصَّلَاةِ فِي جَمَاعَةٍ، وَبِنَا إِلَيْهِ حَاجَةٌ أَفَتُحِلُّهُ أَمْ تُحَرِّمُهُ؟ قَالَ: " أُحِلُّهُ; لِأَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَحَلَّهُ، نِعْمَ الْعَمَلُ وَاللَّهُ أَوْلَى بِالْعُذْرِ، قَدْ كَانَتْ قَبْلِي لِلَّهِ رُسُلٌ كُلُّهُمْ يَصْطَادُ أَوْ يَطْلُبُ الصَّيْدَ، وَيَكْفِيكَ مِنَ الصَّلَاةِ فِي جَمَاعَةٍ إِذَا غِبْتَ عَنْهَا فِي طَلَبِ الرِّزْقِ حُبُّكَ لِلْجَمَاعَةِ وَأَهْلِهَا، وَحُبُّكَ ذِكْرَ اللَّهِ وَأَهْلَهُ» " قُلْتُ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَهُوَ بِتَمَامِهِ فِي الصَّيْدِ يَأْتِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ بِشْرُ بْنُ نُمَيْرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ مَتْرُوكٌ.
حضرت صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس موجود تھے۔ حضرت عرفطہ بن نہیک رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میں اور میرے اہل خانہ شکار کے ذریعے رزق حاصل کرتے ہیں ۔ ہمیں اس میں سے حصہ بھی ملتا ہے ، اور برکت بھی نصیب ہوتی ہے ، لیکن یہ چیز اللہ کے ذکر اور باجماعت نماز سے مشغول رکھتی ہے ہمیں اس کی ضرورت بھی ہے ، تو کیا آپ اسے حلال قرار دیتے ہیں یا اسے حرام قرار دیتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں اسے حلال قرار دیتا ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے حلال قرار دیا ہے یہ اچھا کام ہے ، اور اللہ تعالیٰ عذر قبول کرنے کے زیادہ لائق ہے مجھ سے پہلے اللہ تعالیٰ کے رسول تھے وہ سب شکار کرتے تھے ،اور شکار کی طلب میں رہتے تھے تمہارے لئے باجماعت نماز کے حوالے سے اتنا ہی کافی ہے کہ جب تم رزق کی طلب میں اس میں شریک نہ ہو سکو تو تم جماعت اور اس کے اہل سے محبت رکھو ، اور تم اللہ کے ذکر اور اللہ کا ذکر کرنے والوں سے محبت رکھو۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے یہ مکمل روایت شکار سے متعلق باب میں آگے آئے گی اگر اللہ نے چاہا۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بشر بن نمیر ہے ، اور وہ ضعیف اور متروک ہے۔
«كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ فَقَامَ عُرْفُطَةُ بْنُ نَهْيَكٍ فَقَالَ: ← وَعَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ
Hadith 2197
