مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [أَبْوَابُ الْعِيدَيْنِ] ‹ [بَابُ مَا يَقُولُ عِنْدَ إِدْخَالِ الْمَيِّتِ الْقَبْرَ] · حديث 4239
4239 - عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: «لَمَّا وُضِعَتْ أُمُّ كُلْثُومٍ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْقَبْرِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " {مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى} [طه: 55] " قَالَ: ثُمَّ قَالَ: لَا أَدْرِي أَوْ قَالَ: " بِسْمِ اللَّهِ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، أَمْ لَا؟ فَلَمَّا بَنَى عَلَيْهَا لَحْدَهَا طَفِقَ يَطْرَحُ إِلَيْهِمُ الْحُبُوبَ، وَيَقُولُ: " سُدُّوا خِلَالَ اللَّبِنِ "، ثُمَّ قَالَ: " أَمَا إِنَّ هَذَا لَيْسَ بِشَيْءٍ، وَلَكِنَّهُ يُطَيِّبُ نَفْسَ الْحَيِّ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ.
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیّدہ اُمّ کلثوم رضی اللہ عنہ کو قبر میں اتارا جانے لگا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: ’’اسی سے ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے، اور اسی میں ہم تمہیں لوٹا دیں گے اور اسی میں سے ہم تمہیں دوبارہ نکالیں گئے‘‘ راوی بیان کرتے ہیں: پھر آپ نے کچھ کہا جو مجھے سمجھ نہیں آئی پھر آپ نے یہ پڑھا: ’’اللہ تعالیٰٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے اللہ کی راہ میں اور اللہ کے رسول کے دین پر (میں اسے سپردخاک کرتا ہوں)‘‘۔ جب آپ نے ان کی لحد بنادی تو آپ نے ان کی طرف چھوٹے پتھر بڑھانے شروع کیے اور آپ نے فرمایا: ان کے ذریعے اینٹوں کے درمیان خالی جگہ کو پر کر دو! پھر آپ نے ارشاد فرمایا: یہ کوئی چیز نہیں ہے، لیکن اس کے ذریعے زندہ شخص کو اطمینان ملتا ہے۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے، اور اس کی سند ضعیف ہے۔
لما وضعت أم كلثوم بنت رسول الله في القبر ← اَبِیْ اُمَامَۃَ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The gates of the two feasts] › [Chapter of what he says when entering the dead in the grave] · Hadith 4239
